غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک – ہجرت کی خونچکاں داستان

جناب مصطفی صادق کا وہ تاریخی مضمون جس پر انہیں تحریک پاکستان کے ایک مجاہد کی حیثیت سے گولڈ میڈل کا حقدار ٹھہرایا گیا۔

پاؤں سے خون رس رہا تھا، سر میں باریک باریک پھنسیاں، ذرا سا کھجلاؤں تو انگلیاں خون سے بھر جاتیں، کپڑے میلے کچیلے بلکہ گدلے، اس لئے کہ کم و بیش چھ ہفتے اس عالم میں گزر گئے تھے کہ یا تو بارش کی فراوانی کے باعث کیچڑ میں لت پت فرش نشینی میں شب و روز بسر ہو رہے تھے اور یا پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے تھے۔

غلامی کا دور تو پہلے بھی دیکھا تھا لیکن 14 اگست 47ء سے غلامی کی جن زنجیروں نے ہمیں جکڑ لیا تھا ان کا تصور بھی ہمارے ذہن میں نہیں تھا، اس لئے کہ ہمیں تو ضلع گوردا سپور کے ساتھ ہی ضلع ہوشیار پور کے کچھ علاقوں کی آزادی کی نوید سنائی گئی تھی اور ہم انتہائی مشکل مراحل سے گزرتے ہوئے 14 اگست کو طلوع ہونے والی اس صبح کے انتظار میں تھے جو ہمارے لئے آزادی کا پیغام لے کر آنے والی تھی، لیکن یہ تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا۔ فسادات تو 14 اگست سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے لیکن اس وقت تک مقابلہ ایک ایسی جنونی قوم کے انتہا پسند افراد سے تھا جس کے خبث باطن اور فتورنیت سے ہم بخوبی واقف تھے۔ ان کے اسی کردار کے باعث تو قائداعظمؒ نے پوری قوم کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں انتہائی سرعت کے ساتھ غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی اور ہم ایسے کارکنوں نے گلی گلی، بستی بستی، قریہ قریہ اور شہر شہر، گھوم پھر کر قائداعظمؒ کا یہی پیغام کلمہ گو مسلمانوں تک پہنچایا تھا کہ ہمیں انگریز کی غلامی سے آزاد ہو کر ایک علیحدہ وطن پاکستان کے حسین و جمیل دلکش دلربا نام سے۔۔۔ بسانا ہے، آباد کرنا ہے، جس میں ہمیں اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کیلئے مکمل آزادی حاصل ہو گی۔ ہم ایک طرف انگریز کی غلامی کا قلادہ گردنوں سے اتار پھینکیں گے اور دوسری طرف ہندو کے غلبہ سے آزاد ہو جائیں گے۔

لیکن یہ ہمارے ساتھ کیا ہو گیا ہم تو کسی بہت بڑے فریب کا شکار ہو گئے، ہمارے ساتھ کون دھوکہ کر گیا، کہاں آزادی کا خواب دیکھا جا رہا تھا، کہاں غلامی کے ایسے شکنجے میں جکڑے گئے۔۔۔ اور غلامی بھی ہندو ایسی پست ذہنیت رکھنے والی قوم کی اور ہندو بھی وہ جس کے مقابلے میں ہم اپنی آزادی کیلئے نبرد آزما تھے، برسر پیکار تھے، اب تو اس کی آتش انتقام بھی بھڑک اٹھی۔ اس چال باز قوم نے سادہ لوح سکھوں کو گمراہ کیا۔ خود تو سامنے آنے کی ہمت نہ تھی، پٹیالہ کی سکھ فوجوں کو ہماری بستیوں پر اس حال میں حملہ آور ہونے کیلئے آمادہ کیا کہ ہم جتنا بھی مقابلہ کرتے، ہمیں اپنے گھروں سے بے گھر ہونا ہی تھا۔ لیکن یہی تو نہیں، یہاں تو اور بھی بہت کچھ ہوا۔ آج میں اپنے بزرگ بابا محمد جمیل کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ایسے کمرے میں تڑپتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جس کو باہر سے مقفل کر کے نذر آتش کر دیا گیا تھا جس میں کم و بیش تیس دوسرے افراد بھی تھے، جن میں بچے بھی شامل تھے اور عورتیں بھی۔ ظالموں نے خدا جانے توہین انسانیت کے لئے اس گھٹیا پن کا مظاہرہ، اس چھچھورے پن کا مظاہرہ، اس کمینہ پن اور سفلہ پن کا مظاہرہ کس لئے کیا۔ میرے سامنے میرے ایک اور بزرگ بابا نور محمد جنہیں ہم سب لالہ جی کہتے ہیں، سفید و براق لباس میں ملبوس، اس حال میں اپنی حویلی کے سامنے لیٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ان کا وہ سر تن سے جدا ہے جسے میں اکثر سجدے کی حالت میں دیکھتا تھا۔ ان کا لباس ہی سفید و براق نہیں تھا بلکہ ان کی چمکدار سفید داڑھی بھی ان کے خوشنما چہرے کی زینت تھی۔ ان کی پیشانی پر سجدے کا نشان رات کی تاریکی میں بھی چمکتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ ایک اور بزرگ جو رشتے میں میرے چچا تھے۔۔۔ چودھری غلام علی۔۔۔ چار چار چھ چھ افراد۔۔۔ مسلح افراد کے مقابلے میں ایک لاٹھی کے سہارے ڈٹ کر بھڑ جانے والے۔۔۔ اپنے علاقے میں گنگا (پنجاب کے دیہات کا ایک قدیم عسکری کھیل) کے معروف کھلاڑی ہی نہیں جانے پہچانے استاد تھے۔ اس عالم میں یاد آ رہے ہیں کہ ہم سات افراد کم و بیش گولہ باردو سے مسلح 30-35 انتہا پسندوں سے متصادم ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں دیسی ساخت کی تلواریں اور برچھیوں کے لاہو، چھوٹے چھوٹے پٹاخے ہیں اور ہمارے مد مقابل پانچ گنا زیادہ افراد رائفلوں سے مسلح ہیں۔ ایسے عام میں چچا غلام کی آواز ان الفاظ میں گونجتی ہے ’’منڈیو ہتھیں پے جاؤ!!‘‘ (جوانو! دست بدست جنگ شروع کر دو) میرے دائیں طرف میرے ماموں چودھری محمد بوٹا میں اپنے گاؤں کی جنگ کا ہیرو قرار دے سکتا ہوں، دشمن کو للکارتے ہوئے آگے بڑھے اور اپنی اس دیسی ساخت کی تلوار سے ایک حملہ آور کا سر تن سے جدا کر دیا لیکن اس وار میں ان کی تلوار دہری ہو گئی۔ ان کے پاس دوسرا ہتھیار تیز دھار پھل والی برچھی تھی۔ ابھی یہ دوسرے وار کیلئے سنبھل ہی رہے تھے کہ سامنے سے ایک اور حملہ آور انتہائی پھرتی کے ساتھ میری طرف بڑھا۔ بیشتر اس کے کہ وہ مجھے اپنی تلوار یا خنجر کا نشانہ بناتا، میرے ماموں جان نے اس کے سینے میں بھی برچھی پیوست کر دی۔ اتنے میں چودھری غلام محمد کی آواز پھر آئی، اب وہ میرے ماموں کو اپنے مخصوص دیہاتی لب و لہجے میں پکار رہے تھے: ’’بوٹیا تکڑے ہو جاؤ‘‘ (محمد بوٹا سنبھل جاؤ‘ سنبھل جاؤ) چچا غلام علی کی یہ للکار بڑی ہی گرجدار اور جاندار تھی، جس سے ہمارے حوصلے بڑھ رہے تھے اور دشمن کے حوصلے پست ہو رہے تھے چنانچہ میرے بڑے بھائی چودھری قدرت علی نے بھی اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک غیر تربیت یافتہ سپاہی کی طرح تلوار اوپر اٹھائی اور پیش قدمی کر کے ایک ایسے حملہ آور کے سر پر دے ماری جس کی موٹی موٹی پگڑی کی تہوں میں سے گزرتی ہوئی یہ تلوار اسے اس حد تک زخمی ضرور کر گئی کہ وہ حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہ رہا۔ ایک حملہ آور کو میں نے بھی چت کیا، ایک اور کو میرے ماموں زاد بھائی اقبال نے زخمی کیا اس وقت ان کے حوصلے اگرچہ پست ہو چکے تھے اور تعداد میں ہم سے پانچ گنا حملہ آور پسپائی پر مجبور ہو چکے تھے لیکن دائیں طرف سے اچانک انہیں ایسی کمک پہنچ گئی جن میں سے ایک حملہ آور نے میرے چچا چودھری غلام علی کے سینے میں دل یک عین قربی اس زور سے خنجر گھونپا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے جسم سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ نئے حملہ آوروں کی زد میں ہمارا ایک اور ساتھ فضل دین، کچھ اس صورت میں آ گیا کہ اس کی ران پر تلوار کا وار ایسے زور سے ہوا کہ گوشت کا بہت بڑا لوتھڑا نیچے کی طرف ڈھلک گیا۔ فضل چلنے کے قابل نہ رہا۔ چودھری غلام علی کو شدید زخمی حالت میں ایک کنویں کے پاس درد سے کراہتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ اس علاقے کے حملہ آور پسپا ہو چکے تھے۔ بعد کی اطلاعات کے مطابق چچا غلام علی اپنے قافلہ کا ساتھ نہ دے سکا، دل کے قریب گہرا زخم بالآخر جاں لیوا ثابت ہوا۔ آہ! کتنا بہادر اور جفاکش و وفاکش تھا میرا یہ محترم چچا! حملہ آوروں سے ہمارا یہ تصادم 18 اگست 47ء کو شام پانچ بجے شروع ہوا تھا جو غروب آفتاب کے بعد تک جاری رہا۔ یہ تصادم بابا محمد جمیل کی حویلی کے باہر شروع ہوا تھا جسے بعد میں نذر آتش کر دیا گیا۔ یہاں سے فارغ ہو کر ہم گھروں کی طرف بھاگے (واضح رہے کہ ہماری حویلیاں ہمارے گھروں سے کافی فاصلے پر واقع تھیں) گھروں کی طرف جاتے ہوئے جب ہم گلی میں سے گزرے تو وہاں بعض مستورات کو زخمی حالت میں تڑپتے ہوئے پایا۔ جب میں اپنے گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ میری والدہ محترمہ ایک خاتون کو بڑی مشکل سے اٹھائے ہوئے اپنے گھر کی طرف لے جا رہی ہیں۔ گھر پہنچتے ہی والدہ نے اس زخمی خاتون کے منہ میں پانی ڈال دیا لیکن پانی کے قطرے حلق سے اترتے ہی کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اس خاتون نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ میں والدہ سے یہ کہہ کر مکان کی چھت کے اوپر چلا گیا کہ ہمارے گاؤں کو حملہ آوروں نے چاروں طرف سے گھیرے میں لیا ہوا ہے، ان کے پاس بے پناہ اسلحہ ہے اور وہ اندھا دھند فائرنگ کر کے ہمارے لوگوں کو ہلاک و زخمی کر رہے ہیں۔ میں چھت کے اوپر پہنچا ہی تھا کہ ایک گولی شائیں کرتی میرے روئی دار بنڈی کو دائیں طرف سے چیرتے ہوئے آگے نکل گئی، میں اس سے بال بال بچ گیا۔ میں نے اندازہ کیا کہ حملہ آوروں سے نہ ہماری چھتیں محفوظ ہیں اور نہ گلیاں، بعض بعض گھروں کے اندر بھی حفاظت کا کوئی سامان اور امکان نہیں رہا۔

کم و بیش دو گھنٹے تک قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا ابتدائی تیس چالیس منٹ تک تو کہیں کہیں سے میرے گاؤں کے بہادر اور جیالے نوجوانوں اور بزرگوں نے ان کا مقابلہ کیا، لیکن بعد میں حملہ آوروں کو کھلی چھٹی مل چکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی گورکھا فوج کے بعض سپاہی بھی گاؤں میں داخل ہوتے نظر آئے جو بظاہر ہماری حفاظت کیلئے آئے تھے لیکن ایسے معلوم ہوتا تھا کہ انہیں ہماری حفاظت سے زیادہ اس بات سے دلچسپی تھی کہ ہم بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے گھروں کو خیر باد کہہ دیں حتیٰ کہ اپنے گاؤں سے نکل کر کسی اور گاؤں میں چلے جائیں۔ گھر سے نکلنے کی تیاری ہو رہی تھی کہ میرے ماموں جان ہمارے گھر میں اس حالت میں داخل ہوئے کہ ان کے چہرے سے لے کر گھٹنوں تک خون ہی خون نظر آ رہا تھا۔ وہ اپنے سینہ سے بندھے ہوئے تکیہ سے روئی نکال کر خون کے دھبے بلکہ لوتھڑے صاف کرتے لیکن اتنے میں مزید خون نکل آتا، ان کا چہرہ ان کی گردن اور ان کے بازو دو نالی بندوق کے چھروں سے بری طرح زخمی ہو چکے تھے حتیٰ کہ بہت سے چھرے ان کے جسم میں پیوست نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے آتے ہی والدہ سے کہا، بہن! چلیں گھر سے نکلیں، یہاں ٹھہرنے کا وقت نہیں رہا، اب یہ گھر ہمارے گھر نہیں ہیں۔ یہ الفاظ کہنے والا کہہ رہا تھا، سننے والے سن رہے تھے لیکن جو کچھ ہمارے ساتھ بیت رہی تھی، وہ تو بیان سے باہر ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ میرے اپنے ہی گھر میں والدہ محترمہ کی اطلاع کے مطابق سیروں کے حساب سے سونے اور چاندی کے زیورات بطور امانت محفوظ تھے اس لئے کہ ایک تو ہمارا یہ گھر سارے گاؤں میں مرکزی مقام پر تھا۔ دوسرے والدہ محترمہ کی امانت و دیانت گاؤں ہی میں نہیں علاقہ بھر میں مسلمہ تھی چنانچہ چند روز قبل ساتھ والے گاؤں کی کچھ خواتین بھی اپنے زیورات والدہ محترمہ کے سپرد کر گئی تھیں۔ والدہ کو فکر تھی تو صرف ان امانتوں کی، لیکن ماموں جان کہہ رہے تھے کہ بس یہاں سے خالی ہاتھ نکلو اس لئے کہ اول تو ہماری جانیں بھی خطرے میں ہیں۔ اگر بچ بچا کر یہاں سے نکل بھی گئے تو یہ سونا چاندی ہمیں کون ساتھ لے جانے دے گا۔ بہرحال گھر کے درودیوار پر آخری نظریں دوڑائیں اور گھر سے باہر نکل کھڑے ہوئے۔ میرے ہاتھ میں صرف ایک برچھی تھی جو صحیح معنوں میں غازی کہلانے کا حق رکھتی تھی کہ اس کی مدد سے میں نے بعض اہم معر کے انجام دئیے تھے۔ اس حملہ میں بھی جس کی زد میں براہ راست میرا اپنا گاؤں تھا اور چار روز قبل اپنے گاؤں سے ملحقہ ایک دوسرے گاؤں۔۔۔ دواکھری کے دفاع میں بھی مجھے اللہ تعالیٰ نے حملہ آوروں کو جہنم واصل کرنے کی توفیق سے نوازا تھا۔

برچھی کا ذکر آیا تو یہ بھی عرض کر دوں کہ میرے اسلحہ میں سے یہی ایک برچھی تھی جو میرے ساتھ جالندھر کے کیمپ تک آئی۔ یہاں مجھے اس برچھی کی بھی جدائی برداشت کرنا پڑی اس لئے کہ فوجی ٹرک میں بیٹھنے سے قبل ہمیں ایسی ہر چیز سے محروم کر دیا گیا تھا۔ میں جس دوسرے اسلحہ سے مسلح ہو کر حملہ آوروں سے دو دو ہاتھ کرتا رہا تھا اس میں ایک تلوار تھی، ایک دیسی پٹاخوں سے بھرا ہوا ڈول جو میرے بائیں کندھے پر لٹکتا تھا۔ دائیں کندھے سے پانچ سیل والی بہت بڑی بیٹری اور اس کے ساتھ ہی، سینے کو روئی دار بنڈی سے ڈھانپنے کے بعد، ترازو کے ایک پلڑے کو زرہ بکتر کے قائم مقام کے طور پر باندھا۔ سر پر ایک فولادی خول بھی تھا جو صرف ہم چند نوجوانوں کو میسر آیا تھا۔ میرا سارے کا سارا اسلحہ میری اہلیہ نے مجھے تیار کرتے وقت اپنے ہاتھوں سے زیب تن کیا تھا۔ یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ میری اہلیہ پر 18 اگست کے اس حملہ میں جو گزری، وہ اپنی جگہ انتہائی کرب انگیز داستان ہے۔ ہوا یوں کہ ٹھیک پانچ بجے شام جب سائرن کی آواز کے ساتھ ہی پٹیالہ کے فوجی علاقے کے دوسرے سکھوں کے ہمراہ گاؤں کے چاروں طرف یکدم نمودار ہوئے تو ہم سمجھ گئے کہ گزشتہ چند روز سے جس خوفناک حملہ کی اطلاعات ہمیں مل رہی تھیں اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ میں اس وقت اپنے ماموں کے گھر کی چھت پر سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ ہم نے بھی اپنے انداز میں دفاعی تیاریوں کے اعلانات کر دئیے۔ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں میری اہلیہ نے مجھے اسلحہ بند کیا اور خود اپنے والد کے گھر۔۔۔ جو میرے ماموں کا گھر تھا۔۔۔ دفاعی تیاریوں میں مصروف ہو گئی۔ حملہ آور چونکہ غیر معمولی تعداد میں تھے اس لئے انہوں نے بیک وقت گاؤں کی گلیوں میں گھروں میں اور باہر کھلے میدان میں فائرنگ شروع کر دی۔ جو ان کی زد میں آتا اس پر فائر کھول دیتے۔ جگہ جگہ ہمارے نوجوانوں کی ٹولیاں بھی ان کے مد مقابل ڈٹ گئیں۔ ادھر ہمارے ماموں کے جس وقت وحشی حملہ آور داخل ہوئے، میری اہلیہ اپنے ننھے منے تایا زاد بھائی کو ہاتھوں میں لئے کھڑی تھی۔ ایک درندہ صفت حملہ آور نے آتے ہی کہا کہ اس بچے کو پھینک دو۔ میری اہلیہ نے انکار کیا تو اس نے برچھی کا وار کر کے بچے کو شدید زخمی کر دیا۔ میری اہلیہ کے دونوں ہاتھ بھی بری طرح زخمی ہو گئے۔ اب وہ بھاگنے لگی۔ اس حملہ آور نے جو گھوڑے پر سوار تھا میری اہلیہ پر ایک اور وار کرنے کی کوشش کی۔ اتنے میں میری اہلیہ کے والد محترم اور میرے بہادر ماموں جان جو ہمارے مورچہ سے فارغ ہونے کے بعد گھر پہنچ چکے تھے، انہوں نے حملہ آور کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ پر اپنی برچھی سے ایسا وار کیا کہ گھوڑا لڑکھڑانے لگا۔ اس کے بعد گھوڑے اور اس کے سوار پر کیا گزری، اس کا تو ہمیں علم نہیں ہو سکا تاہم میرے ماموں جان تائیدایزدی سے اپنی بیٹی کو اس وحشی انسان کی دست برد سے بچانے میں کامیاب ہو گئے لیکن کون نہیں جانتا کہ ہماری بہت سی بیٹیاں اور مائیں قتل کر دی گئیں، اغوا کر لی گئیں، زخمی حالت میں ویرانوں اور بیابانوں میں پھینک دی گئیں۔ آج جب میں یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں، ان اذیت ناک لمحوں کو بیتے کم و بیش 45 سال گزر چکے ہیں اور اسی مرقی پنجاب میں جہاں ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے آئے دن قتل و غارت گری اور دہشت و بربریت کی ایسی لرزہ خیز وار داتیں رونما ہو رہی ہیں جن کا علم ہونے پر ہر شریف انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہندو سکھوں کے ہاتھوں اور سکھ ہندوؤں کے ہاتھوں ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں اسے مکافات عمل کہئے یا کوئی بھی دوسرا نام دیجئے، میرے نزدیک دہشت گردی اور تشدد پسندی کا ارتکاب جو بھی کرے اسے ظالم ہی کہا جائے گا اور جو اس کا نشانہ بنے وہ بہرحال مظلوم قرار پائے گا اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ظلم وجبر کبھی کسی کو راس نہیں آتا۔ ظلم کے دن ہمیشہ تھوڑے ہوتے ہیں لیکن ظالم کو اس کا احساس بالعموم وقت گزرنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔

اپنے بیتے لمحوں کا ذکر کرتے کرتے مشرقی پنجاب کے موجودہ حالات سرراہے ہی نوک قلم پر آ گئے لیکن اس سر زمین سے اس علاقے کے کھیتوں اور کھلیانوں سے ہمیں جو جذباتی تعلق ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کی قبریں 47ء کے فسادات میں ہلاک و زخمی ہونے والے ہمارے عزیزوں کی آہیں اور کراہیں آج بھی ہمارے ذہنوں کو پریشان کئے دے رہی ہیں۔ اس لئے قدرتی طور پر اس علاقہ میں پیش آنے والے واقعات سے ہمیں دلچسپی ہے۔ اس بناء پر موجودہ صورت حال کا تذکرہ کچھ ایسا بے محل بھی نہیں۔

میں نے جہاں اپنے بعض بزرگوں اور عزیزوں کا ذکر کیا ہے، ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس نوجوان کو بھی خراج تحسین پیش کروں جس نے اپنے گاؤں کے ایک سو پچیس جانبازوں کو عسکری تربیت دینے کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ یہ نوجوان آج کہاں ہوگا، اس کے لواحقین کسی بستی اور کس علاقے میں آباد ہوں گے، افسوس کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ لیکن جس کی تربیت نے اپنے گاؤں کے نوجوانوں کو حملہ آوروں کے مقابلے میں جرأت و عزیمت کا ثبوت دیتے ہوئے مردانہ وار ڈٹ جانے کے قابل بنایا، میں اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ سیاستدانوں میں، علماء میں، ابل قلم میں، کسی کا کوئی بھی آئیڈیل ہو، اس دور کے نوجوانوں میں فوج سے ریٹائر ہونے والا حوالدار عبدالحق ہی میرا آئیڈیل تھا جس سے تربیت حاصل کرنے کا اعزاز مجھے بھی حاصل ہے۔
اس مرحلہ پر اپنے تعارف کے تکلف سے دور رہتے ہوئے، اتنا ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ میں جس گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں اور جس گاؤں میں عبدالحق سے لے کر چودھری محمد بوٹا، چودھری غلام علی، بابا محمد جمیل اور لالہ نور محمد جیسی شخصیتوں کو جنم دیا اور پالا پوسا اسی گاؤں کی ایک شخصیت خواجہ دل محمد بھی تھے۔ خواجہ صاحب اسلامیہ ہائی سکول دسوہہ میں سیکنڈ ماسٹر تھے اور اکثر و بیشتر قائم مقام ہیڈ ماسٹر کے فرائض انجام دیتے تھے۔ اس سکول کے ہیڈ ماسٹر مرزا محمد بیگ بدخشانی استادوں میں سے بہترین استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے فرشتہ سیرت انسان تھے کہ ان کے حسن اخلاق کے اثرات نے بعض اساتذہ اور طلبہ کو انسانیت کا بہترین نمونہ بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ خواجہ دل محمد جن کے نام کے ساتھ ’’سمرا‘‘ بھی لکھا جاتا تھا بھی اپنے ہیڈ ماسٹر سے بے حد متاثر تھے۔ میں نے سب سے پہلے انہی کے ہاتھوں میں مولانا مودودی کا رسالہ ترجمان القرآن دیکھا۔ یہ 1940ء، 41ء کی بات ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات مولانا مودودی سے بھی خاصے مانوس و متاثر تھے۔ خواجہ دل محمد سمرا تحریک پاکستان کے ابتدائی دور میں اپنے گاؤں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تحریک سے وابستہ کرنے میں غیر معمولی دلچسپی لیا کرتے تھے۔ میں طالب علمی سے فارغ ہونے کے بعد جب ملازمت کے سلسلے میں لاہور چلا آیا تو اس کے بعد جب بھی گاؤں جانے کا موقع ملا میں اپنے محترم استاد خواجہ دل محمد سمرا سے ضرور ملاقات کرتا اور سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ، اپنے علاقہ بالخصوص اپنے گاؤں میں تحریک کے حق میں فضا ہموار کرنے کیلئے منصوبہ بندی میں تعاون بھی کرتا۔ گاؤں کے جو نوجوان خواجہ دل محمد سمرا کے زیادہ قریب رہے ان میں میرا اس دور میں آئیڈیل نوجوان حوالدار عبدالحق بھی تھا۔ جس نے شروع ہی سے نوجوانوں کی عسکری تربیت کی ضرورت کا احساس دلایا چنانچہ گاؤں بھر سے ایک سو پچیس نوجوانو کو منتخب کر کے انہیں فوجی اصطلاح میں پانچ پلاٹونوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ہر پلٹن کا ایک کمانڈر ہوتا تھا اور ایک ڈپٹی کمانڈر، حوالدار عبدالحق خود کمانڈر انچیف تھا۔ مجھے بھی ایک پلاٹون کا کمانڈر بننے کا شرف حاصل ہوا۔ ہمارے گاؤں میں چونکہ غیر مسلم بھی آباد تھے اور خصوصیت کے ساتھ گاؤں کے ایک حصہ میں سکھوں کی آبادی تھی اس لئے ہم اپنی عسکری تربیت کو رازداری سے جاری رکھے ہوئے تھے چنانچہ بعض زمینداروں سے درخواست کر کے ہم نے ان کے کماد کے کھیتوں میں چند مرلے جگہ سے کماد کاٹ دیا اور اس خالی جگہ میں چھپ کر ہمیں ورزش بھی کرائی جاتی تھی اور اسلحہ کے استعمال کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔

جس اسلحہ کی تربیت ہمیں دی جاتی تھی اس میں کسی نوعیت کا جدید اسلحہ شامل نہیں تھا بلکہ وہی اپنے گاؤں کے لوہار کی بھٹی میں تیار کر دہ تلوار اور برچھی اور آتش بازی کے ماہروں سے حاصل کردہ پٹاخے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی اس انتہائی اہم حقیقت کا اظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ورزش اور اسلحہ کی تربیت نے ہمیں جسمانی مضبوطی کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط کا پابند بننا بھی سکھایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے جذبہ ایمان کو جلا بخشنے والی تقریروں اور حفیظ جالندھری کے شاہنامہ کے اجتماعی مطالعہ نے ہمیں اس قابل بنایا کہ اسلحہ جدید ہو یا قدیم بلکہ اسلحہ کا وجود تک بھی نہ ہو تو ایک بندہ مومن اپنی آزادی، عزت اور ایمان کے تحفظ کے لئے توپ و تفنگ کے مقابلے میں بھی ڈٹ جاتا ہے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ہمیں مسلح فوجی دستوں کے مقابلے میں جواں مردی کے ساتھ صف آراء ہونے کی ہمت دی۔ مسلح دستے ہمارے غیر مسلح نوجوانوں کے مقابلے میں یوں دم دبا کر بھاگتے دیکھے گئے جیسے وہ ہر قسم کے اسلحہ سے محروم ہوں اور ہم سب انتہائی جدید اسلحہ سے لیس۔ ان میں گھڑ سوار بھی ہوتے تھے اور دستی بموں سے لے کر بھاری بھر کم اسلحہ اٹھائے ہوئے جغادری قسم کے وحشی حملہ آور بھی ہوتے تھے لیکن جب ان کا سامنا کیا جاتا تو وہ اپنے گھوڑوں کو ایڑی لگا کر یوں بھاگتے جیسے ان کا مقابلہ اپنے سے کئی گنا زیادہ فوج سے ہے اور فوج بھی ایسی جس کے پاس حملہ آوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور جدید تر اسلحہ ہے۔

میں نے اس صورت حال کے مظاہر اور مناظر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے ہوتے تو زندگی کی یہ انتہائی اہم اور خوشگوار یادیں آج تک میرے ذہن میں اس طرح محفوظ نہ ہوتیں۔ جن دو معرکوں کا ذکر اس سے پہلے کر چکا ہوں ان میں پہلا معرکہ ’’دواکھری‘‘ کا ہے۔ دواکھری ہمارے گاؤں سے تقریباً ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ 16 اگست کو شام کے وقت ہمارے ذرائع خبر رسانی نے اس گاؤں پر سکھوں کے حملے کی اطلاع دی۔ ہم اپنی اپنی پلاٹونوں سمیت اپنے لئے مخصوص مقامات پر لائن اپ (Line-up) ہو گئے۔ حوالدار عبدالحق نے مجھے اس ڈیوٹی پر مامور کیا کہ میں اپنی پلٹن لے کر فی الفور دواکھری پر حملہ آوروں سے نبرد آزما ہونے کیلئے موقع پر پہنچ جاؤں۔ میں نے تکبیر کے نعروں کی گونج میں اپنے پچیس میں سے اکیس جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے دواکھری کا رخ کیا۔ (صف بندی کے اعلان تک میری پلاٹون کے چار جوان ہمارے ساتھ شامل نہیں ہو سکے تھے) اپنے ڈپٹی کمانڈر مسٹر اصغر کو میں نے نصیحت کی کہ وہ دواکھری پہنچنے کے بعد مشرق کی جانب سے حملہ آوروں کو للکارے تاکہ وہ شمال کی طرف سے مغرب کی جانب بھاگنے پر مجبور ہو جائیں۔ جدھر میں گیارہ نوجوانوں کو لے کر اس طرح مورچہ بند ہو گیا کہ دشمن کو قریب آنے تک ہماری موجودگی کا علم نہ ہو سکا۔ میری یہ جنگی حکمت عملی کامیاب رہی۔ حملہ آور ڈرے سہمے بد کے ہوئے سراسیمگی کے عالم میں بھاگے بھاگے ہمارے قریب آ پہنچے۔ ہمیں دیکھ کر دشمنوں کے سرغنہ کو یہ دھوکا ہوا کہ ہم سکھوں کے قریب یگاؤں ’’بگالی پور اور ڑھا‘‘ سے ان کی مدد کے لئے آئے ہیں، اس دھوکا کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے لیکن ایک اہم وجہ یہ تھی کہ میں نے ’’الحرب خدعتہ‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے سر پر اکالیوں کے مخصوص رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ یہاں اس امر کی وضاحت کر دوں کہ دفاع کے موقع پر میں اپنا آہنی خول پگڑی کے اوپر باندھتا تھا اور ایسی صورت میں جس کا سامنا دواکھری میں کرنا پڑا زرد رنگ کی پگڑی آہنی خود کے اوپر باندھتا تھا چنانچہ مجھے احساس ہوا کہ میرا مد مقابل دھوکے میں آ گیا ہے، پھر بھی میں نے اسے خبر دار کیا اور للکارا تو اس نے مقابلے کرنے کی بجائے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا دئیے۔ اس کا ایک خالی ہاتھ تھا اور دوسرے ہاتھ میں کرپان تھی اور وہ سراپا خوفزدہ تھا لیکن میں نے اسے کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھا اس لئے کہ میرے کانوں میں دواکھری کے لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں اور حملہ آوروں کے خوف سے بھاگنے والے اس گاؤں کے مکینوں کو اس عالم میں قطار در قطار دیکھ رہا تھا کہ عورتیں اپنے شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھائے اور مرد اپنے اپنے حقے سنبھالے پناہ کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ میں نے حملہ آوروں کے سر غنہ کو للکارنے کے ساتھ ہی حوالدار عبدالحق کی تربیت کے مطابق 45 درجے کا زاویہ بناتے ہوئے تکبیر کا نعرہ بلند کر کے پوری قوت سے اپنی برچھی اس کے سینے میں پیوست کر دی جس سے وہ لڑھک کر گر گیا۔ میرے ساتھی اور ماموں زاد بھائی اقبال نے تلوار کے وار سے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اب ہم دوسروں کی طرف لپکے اور جو کچھ جس کے لئے ممکن ہوا حملہ آوروں کی پسپائی کیلئے، تیز رفتاری کے ساتھ کر گزرے۔ جلدی تو ہمیں ویسے بھی ہونی چاہئے تھی کہ اس قسم کے معرکہ آرائی میں تاخیر کی گنجائش نہیں ہوتی۔ لیکن دوسری طرف چونکہ پولیس کی آمد کی اطلاع بھی مل چکی تھی اس لئے ہمیں چھپ چھپا کر واپس اپنے گاؤں بھی پہنچنا تھا۔ چند ہی لمحوں میں اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر ہمارے دونوں گروپ ازسر نو صف بندی کر چکے تھے باہمی مشورہ کے بعد ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا اس لئے کہ حملہ پوری طرح پسپا کیا جا چکا تھا اور پولیس بھی متاثرہ گاؤں میں داخل ہونے والی تھی۔ ہم ایک ایک، دو دو کر کے مختلف راستوں سے اپنے گاؤں پہنچ گئے۔ میرا سامنا سب سے پہلے اپنے بھائی چودھری قدرت علی سے ہوا۔ ان کا سوال تھا کہ سب لوگ خیریت سے واپس آ گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے تو کچھ لوگ ہماری برچھیوں اور تلواروں کا نشانہ بنے ہیں لیکن الحمدللہ ہمارے نوجوان سب کے سب خیر و عافیت سے واپس آ گئے ہیں۔ بھائی صاحب نے مجھے خاموش رہنے کی ہدایت کی اور سیدھا گھر جانے کے لئے کہا۔ گھر پہنچا تو گھر کے بیرونی دروازے میں میں نے اپنی والدہ کو منتظر پایا۔ انہوں نے میری برچھی کو دیکھتے ہی اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مجھے کپڑے تبدیل کرنے کو کہا۔ ادھر میں کپڑے تبدیل کر رہا تھا اور میری والدہ برچھی کا پھل گھر کی اس واحد پختہ جگہ سے رگڑ رگڑ کر صاف کر رہی تھیں جو دیہاتی گھروں میں گھڑے رکھنے کے لئے بنائی جاتی تھی۔ میرے سارے گھر میں یہی وہ حصہ تھا جسے سیمنٹ سے پختہ کیا گیا تھا۔ اپنی والدہ سے دعائیں لینے کے لئے میں نے انہیں اپنی دواکھری کی کامیابیوں سے آگاہ کیا جس پر والدہ خوش تو ہوئیں لیکن خوش ہونے سے زیادہ انہوں نے میری اس اطلاع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ہمارے تمام نوجوان دواکھری کا معرکہ سر کرنے کے بعد بخیریت واپس آ گئے ہیں۔

یہ تو تھا گھر میں واپسی کا مرحلہ لیکن گھر سے روانگی کا منظر بھی اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ اس معرکہ کیلئے خود والدہ محترمہ نے مجھے رخصت کیا تھا۔ میں ان کے قریب ہی بیٹھا تھا کہ خطرے کی وسل کی آواز سنائی دی۔ یہ وسیل یکے بعد دیگرے تین دفعہ سننے میں آیا۔ ہماری تربیت کے مطابق جس کا مطلب یہ تھا کہ کہیں پر حملہ ہو چکا ہے، جس کے مقابلے کیلئے بلا تاخیر صف آرا ہونا ہے۔ خطرے کے اس الارم سے خود کارکن ہی نہیں عام دیہاتی بھی واقف تھے چنانچہ والدہ محترمہ کو بھی پیش آمدہ صورت حال کا صحیح صحیح اندازہ ہو چکا تھا۔ والدہ نے مجھے دودھ کا چھنا بھر کر دیا اور ان ولولہ انگیز الفاظ سے رخصت کیا: ’’بیٹا، عزت اور ایمان کی خاطر جان کی بازی بھی لگانی پڑے تو پرواہ نہیں کرنی‘‘۔

والدہ کی ہدایت کے مطابق کپڑے تبدیل کرنے کے بعد میں گھر سے باہر نکلا تو پولیس والے لاشیں اٹھائے گاؤں کے باہر نمبردار چودھری غلام قادر اور دوسرے لوگوں سے شکوہ کر رہے تھے کہ آپ کے لڑکوں نے دواکھری میں جا کر ان لوگوں کو قتل کیا ہے۔ پولیس کے انچارج ایک اے ایس آئی جو اتفاق سے مسلمان بھی تھے، انہیں لوگ میر صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔ پتلے دبلے غصیلے سے آدمی تھے، خاصی گرمی جھاڑ رہے تھے۔ میں چونکہ لاہور سے گیا ہوا تھا اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں شمار ہوتا تھا، گاؤں والوں نے مجھے اس تھانیدار سے گفتگو کرنے کیلئے اپنی نمائندگی کا فریضہ سونپا چنانچہ میں نے ملی جلی اردو انگریزی میں میر صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہماری اطلاع تو یہ ہے کہ دواکھری پر حملہ سکھوں نے کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ گاؤں والوں کے ہاتھوں کچھ حملہ آور مارے گئے ہوں۔ جب آپ خود کہتے ہیں کہ یہ لاشیں آپ دواکھری سے لائے ہیں تو آپ کو علم ہونا چاہئے کہ دواکھری میں سکھوں کا ایک بھی گھر نہیں ہے۔ ان لاشوں سے نظر آتا ہے کہ یہ لوگ حملہ آور تھے اور پھر یہ شکایت کہاں تک بجا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنی زیادتی کی سزا خود بھگتی ہے۔ میر صاحب کو ایک ہی اصرار تھا کہ اس گاؤں (بیرچھا) سے کچھ نوجوان دواکھری گئے ہیں۔ یہ لاشیں انہی کے ’’کارنامے‘‘ کا نتیجہ ہیں۔ بہرحال وہ اپنی بات پر مصرر ہے اور نمبردار سے کہا کہ اپنا آدمی دیں جو ان لاشوں کے ہمراہ تھانہ تک ہمارے ساتھ جائے۔ ہر شخص لاشوں کے ساتھ جانے سے کنی کترا رہا تھا، لیکن نمبردار کے کہنے پر گاؤں کا چوکیدار ان کے ساتھ ہو لیا جو اپنے ’’منصب‘‘ کے اعتبار سے حکم عدولی کی جرأت نہیں کر سکتا تھا، دوسرے اسے کسی قسم کی گرفت کا بھی چنداں خطرہ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہی دواکھری کے معرکے کا ڈراپ سین ہوا۔
*****

جواب دیں