قادیانی مسئلے کے حل کے سلسلے میں اہل سنت ہوں یا اہل تشیع ٗ اس موضوع پر تاریخی اعتبار سے باہمی اتحاد کا بے مثل مظاہرہ

اینٹی قادیانی تحریک کے سلسلے میں اس امر کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک ۵۳ء میں یکا یک شروع ہوئی۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ عامتہ المسلمین کے جذبات بعض اہم واقعات کی بنیاد پر یکدم بھڑک اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے پنجاب کے مختلف علاقوں بالخصوص لاہور میں وسیع پیمانے پر ہنگامے شروع ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں حکومت کو مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا مارشل لاء تھا جس کا تذکرہ شاید اس لیے نہیں کیاجاتا کہ اس مارشل لاء کے نفاذ کے بعد مرکزی یا کسی صوبائی حکومت کا تختہ نہیں الٹا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایوب خان ٗ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے نافذ کردہ مارشل لاء کے ساتھ ساتھ جنرل اعظم خاں کے نافذ کردہ اس مارشل لاء کا ذکر نہیں کیاجاتا۔ حالانکہ یہ مارشل لاء امن و امان کی بحالی کے نقطہء نظر سے دوسرے مارشل لاؤں کے مقابلے میں زیادہ سخت تھا۔ شاید اس لیے کہ اسے شدید ترین نوعیت کی ایجی ٹیشن کا سامنا تھا جو عامتہ المسلمین کے عقیدہ و ایمان سے تعلق رکھتی تھی۔ چنانچہ مجھے ذاتی طور پر جماعت اسلامی کے کارکن اور خصوصیت کے ساتھ جماعت کے مقامی نظم میں ذمہ داری کے منصب پر فائز ہونے کے باعث شبانہ روز ایسے زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں پہنچانے کی خدمت انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی جو لاٹھیاں ڈنڈے کھا کر ہی نہیں گولیوں سے زخمی ہو کر بھی انتہائی مجنونانہ انداز میں ختمِ نبوت زندہ باد کے نعرے لگایا کرتے تھے ۔میں اس دور میں جماعتِ اسلامی لاہور میں ’’ قیم‘‘ ( سیکرٹری) کے منصب پر فائز تھا اور جناب صفدر حسن صدیقی امارت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو رہے تھے ۔ جماعت اسلامی کی ایمبولنس کی ذمہ داری انجام دینے والی ویگن جو گشتی شفاخانے کے نام سے جانی پہچانی جاتی تھی۔ ہماری تحویل میں تھی ۔ صفدر صاحب مستقل طور پر اس کے ڈرائیور کی ڈیوٹی بھی انجام دیتے تھے اور ان کے ہم سفر کی حیثیت سے صحیح معنوں میں ان کے شانہ بشانہ سرگرم عمل رہتا تھا۔ قادیانی مسئلے پر عام شہریوں کے جذبات کا اندازہ یکی دروازے میں منعقد ہونے والے ایک جلسہ عام کی یاد گار جھلکیوں سے بھی کیاجا سکتا ہے۔ قادیانی مسئلے کے موضوع پر عوامی سطح پر اہم ترین قومی شخصیات میں جن بزرگوں کا نام سرِ فہرست قرار دینے میں کسی بھی قسم کا تردد یا تکلف نہیں ہونا چاہئے وہ تھے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ۔ جو ختمِ نبوت کے مسئلے پر ایک مستند اتھارٹی ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمہ طور پرخطابت کے شہنشاہ بھی قراردیئے جاتے تھے۔ معروف معنوں میں عام لوگ انہیں ’’ شاہ جی‘‘ ایسے پیارے اور محبوب نام سے یاد کرتے تھے۔ جس جلسہ عام کا میں نیذکر کیا ہے اس کی صدارت شاہ جی فرما رہے تھے ۔ اورجلسہ عام کے اہم ترین مقرر اس دور کے ممتاز ترین شیعہ لیڈر سید کفایت حسین تھے۔ سید صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں جب منطقی طور پر نباتات سے لے کر مخلوقات اور مخلوقات میں حیوانات اور پھر اشرف المخلوقات کا ذکر کیا۔ اور جب انتہائی جذباتی انداز میں مخلوقات میں سے انبیاء ورسل کا حوالہ دینے کے ساتھ ہی بازو فضا میں لہراتے ہوئے ’’ خاتم النبیین‘‘ کے الفاظ پکارے تو صدرجلسہ ’’ شاہ جی‘‘ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے ٗ کرسی چھوڑ کر کھڑے ہو گئے اور سٹیج پرکچھ ایسے والہانہ انداز میں ’’ واہ شاہ جی واہ‘‘ ’’ واہ شاہ جی واہ‘‘ پکارتے ہوئے جھومنے لگے کہ ہزاروں افراد پر مشتمل جلسہ عام کے تمام شرکاء اپنی اپنی جگہ پر اٹھ کھڑے ہوئے اور کبھی اس دور کے معروف ترین نعرے ’’تاجدار ختمِ نبوت ‘‘سے فضا گونج اٹھتی اور کبھی شاہ جی کے الفاظ ’’ واہ شاہ جی واہ‘‘ کے الفاظ پکارتے پکارتے شاہ جی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یوں سمجھئے کہ خاتم الانبیا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ کے عشق میں مُبتلا سرمستی و جانفروشی پر مبنی احساسات و جذبات کا انتہائی غیر معمولی منظر تھا۔ جو اس سے پہلے یا اس کے بعد شاید ہی کبھی دیکھنے میںآیا ہو۔
اس تاریخی جلسہ کا ذکر اس بنیاد پر ضروری محسوس ہوا کہ ختم نبوت کے جن شیدائیوں نے ۵۳ء کے سخت ترین مارشل لاء کا سامنا کیا۔ ان جذبات کا حقیقی اور تاریخی پس منظر واضح کیاجا سکے۔ بہر حال ۵۳ ء کا مارشل لاء آیا اور گزر گیا لیکن ایک طرف قادیانی مسئلے کے حل کے سلسلے میں یہ دور انتہائی اہم بنیاد ثابت ہوا اور دوسرے اہل سنت ہوں یا اہل تشیع ٗ اس موضوع پر تاریخی اعتبار سے باہمی اتحاد کا بے مثل مظاہرہ سامنے آیا۔

جواب دیں