سرکاری ملازمت سے استعفیٰ …… جماعت اسلامی کے دفتر میں نائب قیم کی ذمہ داری

میں نے  سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور جماعت اسلامی کے دفتر میں نائب قیم کی ذمہ داری سنبھال لی۔ شروع شروع میں میری زیادہ تر سرگرمیاں لاہور کے قریبی قصبات بالخصوص تحصیل چونیاں اور قصور کے نواحی علاقوں کے دوروں تک محدود رہیں۔ چونیاں کے بعض علاقوں میں چونکہ مسلک اہلحدیث کے پیروکاروں کی غیر معمولی اکثریت ہے۔ اس لیے مجھے ان علاقوں میں کام کرنے میں کوئی زیادہ دشواری پیش نہیں آئی بلکہ اس مرحلے پر میں یہ عرض کرنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتا کہ اگر پاکستان میں نہیں تو پنجاب بھر میں ہماری دعوتی کامیابیوں کے اعتبار سے یہ زرخیز ترین علاقہ تھا یا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۵۱ء کے انتخابات میں یہی وہ علاقہ تھا جہاں سے جماعت اسلامی کے واحد رکن اسمبلی مولانا محی الدین لکھوی منتخب ہوئے جو صحیح معنوں میں عالم با عمل اور مقبول عام و خاص تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی کامیابی میں ان کی ذاتی مقبولیت کو بھی گہرا دخل تھا۔ اسی طرح پتوکی میونسپل کمیٹی پہلا بلدیاتی ادارہ تھا جہاں عملاً جماعت اسلامی دخیل ہوئی۔ ایک متوسط درجے کے کارخانہ دار اور ہمارے سرگرم کارکن چودھری عبدالمجید میونسپل کمیٹی کے سر براہ تھے۔ دینی شخصیات میں حکیم رائے نعمت علی کو بھی پتوکی میں نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ یہ وہی حکیم رائے نعمت علی ہیں جن کی طبی مہارت اور تقویٰ و پرہیز گاری کی بنیاد پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے معروف نو مسلم خاتون مریم جمیلہ کو ان کی تحویل میں دیا اور محترمہ کافی مدت تک ان کے زیر علاج رہیں۔پتوکی کے قریب ہی گہلن چک نمبر 9واقع ہے۔ یہاں سے معروف اور ممتاز درویش صفت اور جماعت اسلامی کے سرگرم کارکن چودھری عبدالغنی گہلنوی نمایاں ہوکر میدان سیاست میں اترے۔ اسی طرح قصور سے جناب ارشاد احمد حقانی جیسے مایہ ناز دانشور کی شمولیت سے جماعت اسلامی کے قدو قامت میں اضافہ ہوا۔ حقانی صاحب جلد ہی مقامی سطح سے اٹھ کر جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت میں شمار ہونے لگے۔ قصور کالج میں بھی ان کا نمایاں مقام تھا اور جلدہی وہ پرنسپل کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ اس طرح پنجابی کے مشہور شاعر عبداللہ شاکر کا تعلق بھی قصور ہی سے تھا اور کچھ وقت کے لیے مولانا محی الدین سلفی گکھڑوی اور عبداللہ شاکر جماعت اسلامی لاہور کے نائب قیم بھی رہے۔ اس دور میں ان دونوں کے علاوہ چودھری عبدالغنی گہلنوی بھی جماعت کے عہدیداروں میں بحیثیت نائب قیم شامل رہے۔ اصل میں مجھے نائب قیم سے ترقی دے کر قیم حلقہ مقرر کردیا گیا تھا اور حلقہ لاہور تین اضلاع پر محیط ہوگیا تھاجن میں لاہور ٗ ساہیوال اور شیخوپورہ شامل تھے۔ ساہیوال کے لیے جناب اکرم کاشمیری کو اور شیخوپورہ کے لیے جناب کوثر نیازی کو دعوتی کاموں کی انجام دہی کا فریضہ سونپا گیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب جناب فقیر حسین حلقہ لاہورسے مرکز میں بطور ناظم مالیات منتقل ہوگئے۔ اور مرکزی دفاتر بھی ان دنوں اچھرہ سے منصورہ منتقل ہو چکے تھے۔ مجھے اس رائے کے اظہار میں ہرگز کوئی تردد نہیں کہ ان دنوں تنظیمی اور دعوتی ادارے جس منظم اور مربوط انداز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے پاکستان کی حد تک کسی بھی دوسری سیاسی یا دینی جماعت کو ایسے انتظامات کا اہتمام کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی زمانے میں جماعت اسلامی کے ایک اہم عہدیدار سعید ملک صاحب نے اسی نوعیت کے منظم اور مربوط مرکزی سیکرٹریٹ کے قیام کی تجویز پیش کی تھی لیکن اس وقت اس تجویز کو پذیرائی حاصل نہ ہو سکی جس کی اصل وجہ بظاہر یہی محسوس ہوتی ہے کہ سعید ملک نے یہ تجویز مولانا مودودی کی اس دور کی پالیسی سے اختلاف رائے کا اظہارکرتے ہوئے جائزہ کمیٹی کے سامنے پیش کی تھی۔ یہ وہی جائزہ کمیٹی ہے جس کی رپورٹ کے نتیجے میں دسمبر ۵۶ء میں مولانا مودودی نے جماعت کی امارت سے مستعفی ہو کر مارچ ۵۷ء میں پاکستان بھر کے ارکان جماعت کا خصوصی اجلاس طلب کیا تھا۔ یہ اجلاس صادق آباد کے قریب ماچھی گوٹھ میں سردار امین خان لغاری(جو سردار محمد اجمل خاں لغاری کے چھوٹے بھائی تھے) کی شوگر فیکٹری کے وسیع و عریض احاطے میں منعقدہوا تھا۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ ماچھی گوٹھ کا اجتماع ارکان جماعت اسلامی کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس سلسلے میں اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن اس کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ میں بھی ایک شریک اجتماع کی حیثیت سے اپنی معلومات ریکارڈ پر لے آؤں۔ جماعتی زندگی کا دوسرا اہم واقعہ اینٹی قادیانی تحریک سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی وہ تحریک ہے جس میں مولانا مودودی اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو نظر بند کر دیا گیا تھا حتی کہ مولانا مودودی کے لیے اس وقت کی فوجی عدالت سے دو دوسرے بزرگوں مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا اختر علی خاں سمیت سزائے موت جیسا سخت ترین فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔ یہ دونوں واقعات جماعت اسلامی ہی کے نقطہ نظر سے نہیں قومی اور سیاسی نقطہ نظر سے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لیے ان واقعات کے بارے میں قدرے تفصیل کے ساتھ اپنی معلومات بیان کرناپڑیں گی۔

جواب دیں