۔بچپن سے لڑکپن اور جوانی تک مستقبل کے حوالے سے خیال وخواب؟

:۔ اس مرحلے پر تو ہر قسم کے خواب و خیال دھرے کے دھرے رہ گئے۔نئی دنیا اور نئی زندگی سے سابقہ پیش آنے پر بظاہر کچھ بھی سُجھائی نہیں دے رہا تھا کہ اب حالات کیا کروٹ لیں گے۔ ملازمت سے برطرفی کا نوٹس مل چکا تھا۔ اس لیے کہ فسادات کی جس آگ نے علاقے بھر کو تباہ وبرباد کر رکھا تھا میلے کچیلے بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس ننگے پاؤں لاہور میں داخلے کی نوبت آئی تو اس اعتبار سے اگرچہ نئی زندگی آزادی کی غیر معمولی نعمت سے مستفیض لیکن یہ مرحلہ کچھ ایسی آسانی سے طے نہیں ہوا۔ تاہم اللہ بھلا کرے مخلص اور باوفا احباب کا جن میں صدق و صفا کے پیکر انتہائی عزیز دوست صادق ظفر کا نام سر فہرست شمار کیاجاناچاہئے کہ انہوں نے کرائے کے ایک مکان میں میرے لیے چار پائیوں کا بندوبست بھی کیا۔ پاؤں کے جوتے سے لے کر پہننے کے کپڑوں تک ہر چیز کا اہتمام کیا۔ تفصیل میں کیا جاؤں ٗ اس نوجوان دوست نے خوردونوش کے لیے بھی ہر ممکن تعاون کیا حالانکہ یہ کسی امیر کبیر گھرانے سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ بس ایک رفیق خاص کی حیثیت سے دوست داری کے حقوق ادا کرنے میں اس نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر میری روز مرہ ضروریات زندگی کے بارے میں وقتی طور پر مجھے بے نیاز کردیا۔ دریں اثناء ہمارے علاقے کے رکن قومی اسمبلی چودھری علی اکبر نے میرے کہنے پر لاہور کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کے نام ایک ذاتی خط لکھا جس میں ملازمت سے میری برطرفی کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ میں شکوہ بھی کیا گیا تھا اور انتہائی اہم حقائق کی وضاحت کرتے ہوئے فسادات کے دور میں میرے کردارکے بارے میں توصیفی الفاظ لکھنے کے ساتھ ساتھ میری ان پریشانیوں کا ذکربھی کیا تھا جوعزیزو اقارب کے بچھڑنے ٗ گھر سے بے گھر ہونے اور طرح طرح کے جانکاہ حوادث سے گزرتے ہوئے پاکستان منتقل ہونے سے تعلق رکھتے تھے۔ان تفصیلات کو بیان کرنے کا مدعا واضح تھا کہ مجھے میری ملازمت پر بحال کیاجائے اور یہ کہ غیر حاضری کے دور کا معاوضہ بھی اداکیاجائے۔ معاوضہ تو کیا ملنا تھا کہ نام نہاد قواعد و ضوابط آڑے آتے تھے تاہم ملازمت دوبارہ میسر آگئی ۔میں لاہور کارپوریشن کے دفتر میں اگرچہ ۴۲ء میں بطور کلرک بھرتی ہوا تھا لیکن خوش قسمتی سے حکام بالا نے میری خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر مجھے جنرل اسسٹنٹ کی ایسی پوسٹ پر تعینات کر رکھا تھا جو ماتحت عملے میں مقابلتاً زیادہ قدر ومنزلت کی مستحق سمجھی جاتی تھی۔ سرکاری طور پر لاہور کارپوریشن میں میری آخری تقرری آفس انسپکٹر کے طور پر ہوئی تھی کہ مجھے دسمبر ۱۹۵۰ء میں ملازمت سے مستعفی ہونا پڑا۔ استعفاء کا پس منظر میری زندگی کے ایک نئے دور سے تعلق رکھتا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۸ء میں میں جلد ہی کرائے کے مکان سے راوی روڈ پر قلعہ لچھمن سنگھ میں بھارت سے نقل مکانی کے باعث اپنے استحقاق کی بنیاد پر ایک ایسے مکان میں منتقل ہو چکا تھا جو مجھے محکمہ بحالیات نے الاٹ کیا تھا۔ اس مکان میں آج کل میرے ماموں زاد بھائی چودھری ولی محمد ماشا اللہ اپنے اہل و عیال سمیت رہائش پذیر ہیں۔ اس مکان سے میری ’’ ہجرت‘‘ کی داستان بھی میری زندگی کے اہم واقعات کا حصہ ہے جسے ابھی میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔
قلعہ لچھمن سنگھ میں قیام کے دوران مجھے ایک فرشتہ سیرت انسان میاں عبدالحفیظ سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا۔ میرے بڑے بھائی چودھری قدرت علی نے جو قلعہ لچھمن سنگھ میں میرے ساتھ ہی مقیم تھے اپنے گھر کے قریب ہی ایک جلے سڑے مکان میں دوچار چٹائیاں بچھا کر نماز با جماعت کا اہتمام کیا۔ اس وقت تک محترم میاں عبدالحفیظ سے قریبی تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ چنانچہ نہ صرف میاں صاحب نے ہمیں باجماعت نماز کی ادائیگی کا پابند کیا بلکہ خود ہی امامت کا فریضہ بھی ادا کرنا شروع کردیا۔اور اس کے ساتھ ساتھ بالخصوص مغرب کی نماز کے بعد مختصر سے وقت کے لیے قرآن و حدیث کا درس دینا بھی شروع کردیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دوسرے نمازیوں کے علاوہ میں نے میاں عبدالحفیظ سے حدیث کی مشہور کتاب ’’بلوغ المرام‘‘ کی دو جلدیں سبقاً سبقاً پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ قرآن و حدیث کے درس کے ساتھ ساتھ میاں صاحب نے مجھے مولانا سید ابو الا علی مودودی کی یکے بعد دیگرے دو کتابیں مطالعہ کے لیے دیں جو کہ ’’ خطبات‘‘ اور ’’تنقیحات ‘‘ کے نام سے اب بھی معروف و مقبول ہیں۔ میں نے ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کچھ ایسے ذوق و شوق کے ساتھ کیا کہ مجھے اپنی دنیا بدلتی دکھائی دے رہی تھی۔ ان دنوں مولانا مودودی جہاد کشمیر کے بارے میں ایک ’’ فتوی‘‘ کے الزام میں قید و بند کی سزا بھگت رہے تھے۔ جماعت کے کارکنوں کی طرح میں بھی اس بے بنیاد الزام کی تہ تک پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ انہی دنوں مولانا مودودی کی گرفتاری کے خلاف ایک مظاہرہ کیا گیا جسے خاموش احتجاج کا نام دیا گیا تھا۔ یہ مظاہرہ اس اعتبار سے خاموش احتجاج کی حیثیت رکھتا تھا کہ جماعت کے کارکن مختلف چوراہوں میں ایسے بینر اٹھائے خاموشی سے کھڑے رہے جن پر مولانا مودودیؒ کے جرم بے گناہی اور اس جرم کی پاداش میں مولانا کی نظر بندی کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خاموش احتجاج کا عام راہگیروں پر پڑھے لکھے طبقے اور اس دور کے دانشوروں پر جو بھی اثر ہوا ہو گا وہ تو معلوم نہیں ٗ لیکن میں ذاتی طور پر خاموش احتجاج کا ایک ایک لمحہ اس تصور سے گزار رہاتھا کہ ایک طرف مولانا مودودی کے خلاف اس ظلمِ عظیم کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا جارہا تھا اور دوسری طرف اس یقین میں اضافہ ہوتا جارہا تھا کہ اللہ تعالٰی کی نصرت و تائید ہم ایسے بے لوث کارکنوں کو یقیناً نصیب ہو رہی ہے۔ یہاں یہ عرض کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ مولانا سے عقیدت تو ان کی تصنیفات کے مطالعے ہی سے شروع ہو گئی تھی۔ اس احتجاج میں شرکت کے باعث مولانا سے عقیدت میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ ان دنوں میں جماعتِ اسلامی سے باضابطہ وابستہ نہیں تھا لیکن میاں عبدالحفیظ کے ذریعے جماعت کے حلقہ متفقین میں شامل ہو چکا تھا۔ ان دنوں جماعت سے وابستگی کے تین مدارج ہوتے تھے۔ ابتدائی درجہ’’ متفق ‘‘کا ہوتا تھا۔ دوسرا درجہ’’ ہمدرد‘‘ کا اور تیسرا درجہ ’’رکن جماعت ‘‘کا ہوتا تھا۔ ان دنوں جماعت کے ہفتہ وار اجتماعات کبھی ’’گول باغ‘‘ میں ہوتے تھے جسے آجکل ’’ناصر باغ ‘‘کہا جاتا ہے اور کبھی اس دور کے جماعت اسلامی لاہورکے امیر ملک نصراللہ خاں عزیز کی قیام گاہ ۷۔پارک لین ٹمپل روڈ ٗ مزنگ میں ہوتے تھے۔ اور خصوصی یا ماہانہ اجتماعات برکت علی ہال ریلوے روڈ میں ہوا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے لیے ان اجتماعات کا انعقاد قلعہ گوجر سنگھ کی ایک مسجد میں بھی ہوتا رہا۔
مولانا مودودی ۱۹۵۰ء میں جیل سے رہا ہو کر آئے تو انہوں نے آنے کے کچھ ہی دنوں بعد ٗ ذیلدار پارک اچھرہ میں جماعت اسلامی لاہور کے ارکان کا اجتماع طلب کیا اور ابتدائی گفتگو کے بعد اپنے اس فیصلے کا اعلان کیا کہ لاہور کا موجودہ نظم توڑا جاتا ہے اور فرمایا کہ ملک نصراللہ خاں عزیزکے بھر پوراحترام کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی کبرسنی اور نقاہت کے باعث لاہور کی امارت کی ذمہ داریاں کما حقہ ادا نہیں کر پارہے اس لیے لاہور کی اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ نیا نظم قائم کریں اور باہمی مشورے سے نئے امیر کا تقرر عمل میں لائیں۔ چنانچہ لاہور کے لیے باہمی مشورے سے مولانا امین احسن اصلاحی کواصلاحی صاحب کے اختلاف اور احتجاج کے باوجود امیر منتخب کر لیا گیا۔ ان دنوں مولانا اصلاحی راجگڑھ نزد چوبرجی میں قیام پذیر تھے اور جماعت کے اجتماعات بالعموم برکت علی اسلامیہ ہال میں ہوتے تھے۔ مشورے کے دوران بعض ارکان نے توجہ دلائی کہ مولانا کے گھر سے اجتماع گاہ کا فاصلہ دور ہے اور مولانا کے پاسکوئی سواری نہیں۔ مردان کے ایک سادہ لوح پٹھان نے جو غالباً پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم بھی تھا یہ پیشکش کی کہ میں اپنی سائیکل مولانا اصلاحی کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ یہ پیشکش ایثار و قربانی کے جذبے کی مظہر تو یقیناًتھی لیکن قابل عمل نہ تھی۔ اس کے ساتھ ہی مولانا مودودی کی تجویز پرقیمِ شہرکے انتخاب کا فیصلہ بھی ہو گیا جس کے لیے جناب فقیر حسین کے نام پر اتفاق رائے ہوا۔ مولانا کے استفسار پر فقیر حسین نے بتایا کہ وہ اس وقت اے جی آفس میں سپرنٹنڈنٹ کے منصب پر فائز ہیں اور دو سو چالیس روپیہ ماہانہ مشاہرہ لیتے ہیں۔ مولانا نے اس مرحلے پر فرمایا کہ ہمہ وقتی کارکنوں کے بغیر جماعت کے دعوتی کاموں میں توسیع میں مشکلات پیش آتی ہیں لیکن ہمہ وقتی کارکنوں کے مشاہرے کی حیثیت کفاف تک ہونی چاہئے۔ یعنی اس حد تک کہ ان کی بنیادی ضروریات کے لیے کفالت کر سکے ۔ اس کے بعد مولانا نے فرمایا کہ قصبات اور دیہات میں دعوتی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے ایک نائب قیم کا تقرر بھی ضروری ہے۔ اس منصب کے لیے سب سے پہلے ملک نصراللہ خاں عزیز نے میرا نام تجویز کیا۔ اس کے بعد میاں عبدالحفیظ ٗ عبدالحمید کھوکھر اور بعض دوسرے ارکان نے اس تجویز کی تائید کی۔ مولانا نے میرانام سامنے آنے پر سوال کیا کہ یہ جماعت کے رکن کب بنے ہیں؟ ملک صاحب نے ہی جواب دیا کہ انہیں آج رکنیت کا حلف لینا ہے۔ مولانا نے فرمایا پہلے انہیں رکن تو بنا لیجئے ٗ چنانچہ مجھے رکنیت کا حلف پڑھنے کو کہا گیا جو بلا شبہ میری زندگی کا ایک اہم واقعہ اور انتہائی جذباتی لمحہ تھا۔ میری رکنیت کے حلف نامے کی توثیق خود مولانا مودودی ؒ نے فرمائی اور جہاں تک مجھے یاد ہے میری رکنیت کا حلف مولانا مودودی کی امارت کے اس دور کااس نوعیت کا آخری واقعہ تھا۔ اس لیے کہ بالعموم جب کوئی نیا رکن جماعت میں شامل ہوتا تو اس کے حلف نامے کی توثیق مقامی امیر جماعت ہی کرتا رہا ہے۔ رکنیت کا حلف اٹھا لینے کے بعد مجھ سے مولانا نے استفسار کیا کہ آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں ضلع ہوشیار پور سے وابستہ ہوں اور اب لاہور میں رہتاہوں۔ اس پر مولانا نے اس اعتبار سے اطمینان کا اظہار کیا کہ زبان وبیان کے لحاظ سے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ آپ اس وقت کیا کام کرتے ہیں؟ اور ماہانہ مشاہرہ کیا وصول کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ لاہور کارپوریشن میں آفس انسپکٹر ہوں اور ایک سو پینتیس روپے ماہانہ وصول کرتاہوں۔ لیکن میرا گزارہ ایک سو روپیہ میں ہو جاتا ہے۔ اور ’’ کفاف‘‘ کے لیے مجھے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔

جواب دیں