لاہور کارپوریشن میں باقاعدہ ملازمت ….. منشی فاضل کا امتحان پاس کر لیا۔

میری عمر سولہ سال اور تین مہینے تھی۔ اور یہ۲۴۔اکتوبر ۱۹۴۲ء کی صبح کا واقعہ ہے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن سے باہر نکل کر کسی تانگہ پر بیٹھ جانا جہاں سے دو دو آنے میں تانگے والے سواریاں بٹھاتے ہیں اور ’’بھاٹی گیٹ ‘‘یا ’’داتا صاحب ‘‘کے مزار تک لے آتے ہیں۔ میں ریلوے اسٹیشن کی حدود سے باہر نکلا اور اپنے طور پر حالات کا جائزہ لیا تو ابھی صبح صادق نہیں ہوئی تھی۔ تانگے والے حسب معمول ہر سواری سے بیٹھنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ میں کسی تانگے پر بیٹھنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں تھا۔ داتا صاحب‘‘ جانے کا راستہ معلوم کرکے پیدل ہی چل پڑا۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک قدم آدم لیٹر بکس پر نظر پڑی( یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ یہ لیٹر بکس تھا) اس وقت تو میں اسے ڈیوٹی پر مامور پولیس کا سپاہی سمجھا تھا۔ میں نے ٹھیٹھ دیہاتی لہجے میں اسے ادب کے ساتھ سلام کیا۔ جب وہ خاموش رہا تو میں ڈر گیا کہ یہ ناراض ہو گیا ہے اور اس کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے اس کے قریب جانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ میں راستہ چھوڑکر اسکے قریب سے گزر گیا اور جو بھی راستے میں ملتا اسے السلام علیکم کے بعد راستہ پوچھتا۔ راستہ پوچھتے پوچھتے ’’داتا صاحب‘‘ کی مسجد کے باہر پہنچ گیا۔ ابھی تک فجر کی نماز کا وقت نہیں ہوا تھا۔ مسجد کے باہر والی ڈیوڑھی میں الٹے سیدھے جوتوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ ان جوتوں کے قریب بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے اشارہ کیا کہ یہاں جو تا رکھ دو لیکن میں نے جوتا اس کے حوالے کرنے کی بجائے اسے بغل میں چھپا لیا اور مسجد کے اندر چلا گیا۔ اندر جا کر ادھر ادھر کا جائزہ لیا اور بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی لیٹ گیا۔ تھکا ہارا ہونے کے ساتھ ساتھ خوفزدہ بھی تھا لیکن یہاں آکر یک گونہ اطمینان ہوا کہ مسجد کے اندر پہنچ گیا ہوں جہاں ساتھ ہی داتا گنج بخش رحمتہ اللہ کا مزار بھی ہےبیگ اور پگڑی سرہانے رکھے اور جوتا ذرا فاصلے پر سامنے رکھ دیا۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور انہوں نے مجھے خبردارکرنے کے انداز میں کہا’’ جوتا سنبھال کر رکھو‘‘ حقیقت یہ ہے کہ میرے دل و دماغ پر اس تنبیہ کے بعد ایک ایسا لرزہ طاری ہوا جس سے میں خاصا متاثر ہوا۔ حیرت سے زیادہ دکھ اور تکلیف کی بات یہ تھی کہ مسجد کی حدودکے اندر داتا صاحب کے مزار کے عین قریب بھی اگر جوتا محفوظ نہیں ہے تو لاہور میں ٹھہرنا کیسے ممکن ہو گا۔ اب میرادیہاتی پن سمجھئے اسے سادگی کا نام دیجئے یا کچھ اور ۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے بارے میں انتہائی گھناؤنا تصور ذہن پر نقش ہو گیا۔ اس لیے کہ اول تو یہی تصور نہیں کیاجاسکتا تھا کہ مسجد میں جوتا محفوظ نہیں اور پھر ایسی مسجد جو داتا صاحب کا دربار بھی کہلاتی ہے۔ بہر حال یہ تو اس وقت کی بات ہے۔ تو اسے بد قسمتی کی انتہا ہی سمجھیئے کہ اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ یہاں جوتے کا خیال رکھنا تو جواب ملتا کہ یہ کوئی مسجد ہے؟ توخیر اس طرح میں لاہور پہنچ گیا۔ صبح ہوئی تو اپنے میزبان کا گھر تلاش کرنے لگا۔ ان کا گھر اس وقت دربار داتا صاحب کے قریب ہی ہجویری محلہ سے متصل شیش محل پارک میں عثمان غنی سٹریٹ میں تھا۔ جہاں میرے میزبان برادرم شوکت علی اپنے والد بزرگوار چودھری محمد شفیع کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ یہ ایک ہی کمرے کا گھر تھا جس کا کچن گلی میں تھا اور اس کا واش روم راوی کے کنارے ٗ گھر کی حدود میں ایسا کوئی انتظام نہیں جہاں آپ قضائے حاجت کرسکیں۔ اس گھر کا کرایہ چار روپے ماہوار تھا۔ گویا اب اس گھر کے مکینوں کی تعداد تین ہو گئی تھی۔ میرے لیے جو پہلو انتہائی خوشگوار تھااور زندگی بھر رہے گا۔ وہ یہ تھا کہ میرا خیر مقدم انتہائی پرتپاک انداز میں کیا گیا اور اس ’’ پر تکلف‘‘ گھر میں مجھے بے تکلفی کا ماحول فراہم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے بڑے بھائی چودھری قدرت علی ٗ ایک ماموں زاد بھائی چودھری ولی محمد اور ان کے ایک قریبی عزیز نیاز محمد بھی لاہور پہنچ گئے۔ اب ہم ایک علیحدہ مکان میں منتقل ہو چکے تھے۔ نیا مکان چھوٹے چھوٹے دوکمروں پر مشتمل تھا اور اسی گلی میں واقع تھا۔ میرے بڑے بھائی چودھری قدرت علی مجلسی زندگی میں مصروف عمل رہنے کے لیے ایک خاص مزاج رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے ہمسایوں اور دوسرے اہل محلہ سے میل ملاقاتوں کے ذریعے اس گلی کے شروع میں واقع ایک جامع مسجد کی انتظامیہ کمیٹی میں دلچسپی لینا شروع کی۔ اس دور کے انتہائی مشہور عالم دین حضرت مولانا محمد بخش مسلم بی اے بھی ہماری گلی سے متصل دوسری گلی میں قیام پذیر تھے اور مذکورہ مسجد کے بالکل سامنے’’ دھامی بلڈنگ‘‘ کے مالک بھی مسجد کے معاملات میں گہری دلچسپی لیتے تھے اور شام کو اپنے مکان پر درس قرآن کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ ’’دھامی صاحب‘‘ (افسوس کہ ان کا پورا نام اب یاد نہیں رہا) سول سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ گویا عام معنوں میں ایک سینئر آفیسر تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں سب سے پہلے درس قرآن کی جس مجلس میں باقاعدہ شریک ہونے کا اعزاز حاصل کیا وہ یہی ’’دھامی صاحب ‘‘ہی کی مجلس تھی۔ ان دنوں میں لاہور کارپوریشن میں باقاعدہ ملازمت حاصل کر چکا تھا۔ میرے بڑے بھائی اور دوسرے عزیز بھی جن کا ذکر اوپر کر چکا ہوں۔ یکے بعد دیگرے لاہور کارپوریشن میں ہی ملازمت اختیار کر چکے تھے۔ میرے لیے ان رشتہ داروں کے لاہور آنے سے قبل اپنے محسن اور جگری دوست برادرم شوکت علی اور ان کے والد مرحوم کی ہر قسم کی ہمدردی اور مُخلصانہ تعلق کے باوجود لاہور شہر میں گزر بسر خاصی دشوار محسوس ہو رہی تھی۔ بڑے بھائی اور دوسرے رشتے داروں کے آنے کے بعد گویا خاندانی ماحول میسر آگیا۔ ہم خود ہی اپنے کھانے پینے کا اہتمام کیاکرتے تھے۔ میں چونکہ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے جلد ہی بعد لاہور آگیا تھا۔ اس لیے بعض دوستوں کے مشورے کے مطابق تعلیمی استعداد میں اضافے کے لیے منشی فاضل(آنرزان پرشین ) میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے شیرانوالہ گیٹ سے باہرصدیقی سٹریٹ میں علامہ علا ؤالدین صدیقی کے بھتیجے محترم ضیاء الدین صدیقی نے صدیقی ٹیوٹوریل انسٹیٹیوٹ کے نام سے تعلیمی ادارہ قائم کر رکھا تھا جس میں میں نے اپنے ایک دوست صادق ظفر کے ہمراہ داخلہ لے لیا اور ۱۹۴۶ء میں منشی فاضل کا امتحان پاس کر لیا۔ اس کے بعد قیام پاکستان کے مراحل پیش آئے۔ میں ذہنی اور نظریاتی طور پر قائداعظم کے فکر و فلسفہ سے بے حد متاثر تھا۔ چنانچہ لاہور میں بھی کسی حد تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا لیکن جب چند دنوں یا چند ہفتوں کی چھٹی لے کر اپنے گاؤں جاتا تو میری سیاسی سرگرمیوں میں اس لیے بھی اضافہ ہو جاتا کہ لاہور کے حوالے سے دیہات کے لوگ میری باتیں زیادہ توجہ سے سنتے اور جہاں تک مجھے یاد ہے اس دور میں مجھے گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقے میں مسلم لیگ کے سوا کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کا کوئی قابل ذکر کردار سننے میں نہیں آتا تھا۔ اس مرحلے پر یہ بھی عرض کر دوں کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد کا جو نقشہ ہمیں بتایا جاتا تھا اور جس پر ہم یقین کر چکے تھے اس نقشے کے مطابق ہوشیار پور اور گورداسپور کے اضلاع کے مکمل طور پر یا ان اضلاع کے بیشتر حصے پاکستان میں شامل ہونے والے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے ریڈ کلف ایوارڈ نے ہم لوگوں کے ساتھ کچھ ایسا ہاتھ کیا کہ ہم آزادی کی نعمتوں سے وقتی طور پر محروم ہو کر غلامی کے شکنجوں میں جکڑے گیے ۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر جس ظلم و ستم کا سامنا ہمیں کرنا پڑا وہ گھر سے بے گھر ہونے کا المیہ تھا۔ بستیوں کی بستیاں اجڑ گئیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قتل وغارت گری کا بازار گرم ہو گیا۔ میں تقسیم سے تھوڑی دیر پہلے تک لاہور میں تھا اور میں نے انتہا پسند سکھ راہنما گیانی کرتار سنگھ کو پنجاب اسمبلی کے سامنے اپنی آنکھوں سے کرپان لہراتے دیکھا۔ یوں سمجھئے کہ گیانی کرتار سنگھ کا یہ اقدام ہندو مسلم فسادات کی بد ترین بنیاد ثابت ہوا اور ایسا لگتا تھا کہ گلی گلی محلہ محلہ میں سالہا سال سے نہیں صدیوں سے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔ کہیں چھوٹا اور کہیں بڑا جلوس جگہ جگہ خون آشامی کے انتہائی خوفناک مناظر پیش کر رہا تھا دیکھتے ہی دیکھتے پُر سکون اور پر امن زندگی دہشت و بربریت کا سماں پیش کرنے لگی۔میں نے اپنے سامنے کہیں مسلمانوں کی کہیں غیر مسلموں کی لاشیں گرتی دیکھیں ۔ انسانی خون کی اس نوعیت کی ارزانی کا اس سے پہلے تصورتک نہیں کیا جا سکتاتھا۔ ماسٹر تارا سنگھ کے کرپان لہرانے کا واقعہ مارچ ۱۹۴۷ء کے پہلے ہفتے میں پیش آیا۔ اس کے بعد فسادات کی آگ نے لاہور ہی نہیں پورے پنجاب کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ چنانچہ میں اپنی والدہ ٗ اہلیہ اور دوسرے بہن بھائیوں کے بارے میں شدید پریشانی کے عالم میں سرکاری ملازمت سے چند ہفتوں کی رخصت لے کر گاؤں کے لیے روانہ ہو گیا جہاں جن قیامت خیز مناظر کا سامنا کرنا پڑا وہ اپنی جگہ ٗ لیکن جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے ذریعے اور علاقے کے دوسرے لوگوں کے ذریعے ایک طرف اگرچہ اپنی زندگیاں بچانے کا مسئلہ در پیش تھا ٗ اس کے ساتھ ہی بھارت سے نقل مکانی کرکے پاکستان تک سفر کا مسئلہ در پیش تھا۔ ہر طرف قتل و غارتگری اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ نہتے لیکن جانباز مسلم نوجوان اپنی بقاء و تحفظ کے لیے اور اپنی ماؤں بہنوں کی عزت بچانے کے لیے جوکچھ کر سکتے تھے ٗ انہوں نے اس سے گریز نہیں کیا۔ لٹے پٹے قافلے کو اپنے گھروں اور اپنے علاقوں سے نکل کر امن کے راستے تلاش کرنا بھی ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا اگرچہ بعض فوجی گورکھے امن و امان کے قیام کے لیے ادھر اُدھر فوجی وردیوں میں ملبوس گھومتے پھرتے نظر آتے تھے لیکن ان کی طرف سے کسی بھی قسم کی ایسی موثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی جو فسادات کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتی۔اس عالم میں ہم اپنے مکانوں پر الوداعی نظر ڈالتے ہوئے اللہ کا نام لے کر پاکستان کے لیے خالی ہاتھ اور ننگے پاؤں چل پڑے ۔ اس لیے کہ قافلوں کے تمام شرکاء کو بار بار یہ پیغام مل رہا تھا کہ سب کے سب خالی ہاتھ نکلیں کسی کے ہاتھ میں یا کسی کے سر پر کسی بھی قسم کا سامان یا بوجھ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن غم کا بوجھ اور ارض پاکستان تک پہنچنے کی خواہش سے ہمیں کون محروم کر سکتا تھا۔

جواب دیں