قصہ ایک دیہاتی کے پہلی مرتبہ لاہور کے سفر کا

میرے وہ اساتذہ جن کا ذکر اس اعتبار سے پہلے آچکا ہے کہ وہ میری صلاحیتوں اور سرگرمیوں سے بے حد متاثر تھے ان میں سے ایک استاد نے جن کا تعلق میری برادری سے ہی تھا میرے گاؤں سے تعلق رکھنے والے اسکول کے ایک اور استاد محترم خواجہ دل محمد کے ذریعے میری والدہ کو پیغام بھیجا کہ غلام مصطفیٰ کی آئندہ تعلیم کی تمام ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں اور اس کی شادی بھی میں اپنی بیٹی سے کروں گا۔ میری بیٹی کا رشتہ اگر ان کی والدہ کو منظور ہو تو غلام مصطفیٰ ابھی سے میرے حوالے کر دیں۔ والدہ نے اپنے انداز میں اس پیشکش کی قدر دانی تو کی لیکن ان الفاظ میں پیغام کا جواب دیا ’’ میں غریب تو ضرور ہوں لیکن اپنے بیٹے کو کسی کی تحویل میں نہیں دے سکتی‘‘ اتنے میں میرے ماموں جان نے والدہ محترمہ سے کہا کہ کھیتی باڑی کا کام غلام مصطفیٰ خود میرے ساتھ کرے گا اور اس کی تعلیم بھی جاری رہے گی۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا ہو گا آج میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر یہ میری اپنی کہانی نہ ہوتی تو اس پریقین کرنا مشکل ہوتا۔ مختصراً آپ بھی سن لیجئے۔
ماموں جان اپنے بیلوں کی جوڑی لے کر سحری کے وقت میری حویلی چلے آتے ۔ یہ حویلی گاؤں کی سب سے بڑی حویلی تھی اور گاؤں کے آخری سرے پر واقع تھی۔ یہاں سے میرے بیلوں کو ہل پنجالی سمیت تیار کرتے اور مجھے پیار محبت سے جگا جگاکر ساتھ لیتے۔ جس کھیت میں جانا ہوتا وہاں جاتے ٗ ہل چلاتے ۔ اتنے میں گھر سے میرے اسکول کے کپڑے اور بستہ کھانے سمیت کھیت میں پہنچ جاتا۔ کھانا کھانے کے بعد میں جہاں بھی ہوتا وہیں سے اسکول کا راستہ لیتا اور ماموں جان میرے اور اپنے بیلوں کو واپس حویلیوں میں لے جانے کی ذمہ داری ادا کرتے۔ میں اسکول سے واپس آکر مویشیوں کے لیے چارہ لاتا جس میں مشین سے چارہ کاٹنے کاکام بھی شامل ہوتا۔ اس دوران میں یوں تو آزمائش کی بہت سی گھڑیوں سے سابقہ پیش آیا لیکن ایک گھڑی ایسی فیصلہ کن ثابت ہوئی جو میری زندگی میں انقلاب کا ذریعہ بن گئی۔ کھیتی باڑی کے معاملات سے باخبر لوگ تو جان سکتے ہیں دوسروں کو سمجھانا پورے طور پر مشکل ہے کہ جب میں مویشیوں کے لیے چارہ لانے کی غرض سے اپنے ایک کھیت سے سرسوں کے پودے اکھاڑ رہا تھا تو ایک پودے کی جڑیں اتنی مضبوط تھیں کہ میں اسے اکھاڑ نہ سکا۔ ایک طرف یہ کہ میں نحیف و نزار تھا اور دوسری طرف یہ کہ میٹرک پاس کر چکا تھا۔ تمنا اور دعا یہ تھی کہ کہیں کوئی اچھی ملازمت مل جائے تو زندگی میں کچھ آسانیاں میسر آسکیں۔ سرسوں کے اس پودے کو اکھاڑنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی۔ اور میں نے روتے روتے اللہ پاک سے فریاد کی کہ مجھے ان مشکلات سے اس لیے بھی نجات ملنی چاہیے کہ میں اپنے اندر ان مشکل کاموں کی ہمت نہیں پا رہا۔ اس دوران میں اگرچہ میں اپنے ساتھ والے گاؤں’ ’اجمیر‘‘ میں ایک پرائمری اسکول میں جز وقتی طور پر اول مدرس کے فرائض سرانجام دے رہا تھا جس کے مہتمم مولوی نبی بخش تھے جن کے بارے میں بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ قادیانیوں (احمدیوں) کے معروف ۳۱۳میں شامل ہیں۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ ایک مولوی فضل دین ٗ جو عمرکا زیادہ حصہ لاہور کے انتہائی معروف تعلیمی اداے سنٹرل ماڈل اسکول میں پڑھاتے رہے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے شاگردوں میں دوسروں اعلیٰ افسروں کے علاوہ محترم محمد شفیع بھی شامل تھے جو اس دور میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواب افتخار حسین خاں ممدوٹ کے پرائیویٹ سیکرٹری اور دوسرے اہم اعلیٰ عہدوں پر رہنے کے ساتھ ساتھ لاہور کے ڈپٹی کمشنر بھی رہے ہیں۔ یہ وہی محمد شفیع ہیں جو پنجاب کے مرحوم انسپکٹر جنرل پولیس چودھری سردار محمد کے سُسر تھے۔ مولوی نبی بخش کے دوسرے بیٹے محمد علی اجمیری کے نام سے مشہور تھے جو قادیانیوں کے ترجمان انگریزی جریدے ’’ ریویو آف ریلجنز‘‘ کے ایڈیٹرتھے۔ میرا ان دونوں حضرات کے بچوں سے بھی قریبی تعلق رہا ہے۔ چنانچہ جب لاہور میں ۱۹۵۳ء کے دوران اینٹی قادیانی تحریک زوروں پر تھی تو میں رحمان پورہ میں مقیم مولوی فضل دین کے گھر گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کا گشتی شفاخانہ میرے اور جناب صفدر حسن صدیقی کی تحویل میں تھا۔ ہم زخمیوں کی ابتدائی طبیامداد اور بعض زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ میں یہی گشتی شفاخانہ لے کر مولوی فضل دین کے گھر گیا تھا اور ان سے کہاکہ آجکل چونکہ ہر وقت حملوں اور بلووں کا اندیشہ رہتا ہے اس لیے آپ بچوں کو میرے ساتھ بھیج دیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ میری تجویز ماننے سے انکار کیا بلکہ جماعت اسلامی کو یکسر بے جا طور پر ایک فریق ٹھہراتے ہوئے کچھ سخت سست الفاظ بھی کہے جس کا میں نے بالکل برا نہیں مانا۔ بہرحال ان کی اہلیہ اور دوسرے افراد خانہ خیر خواہی کے میرے اس جذبے پر سراپا شکر گزار تھے۔ سرسوں کے پودے کے حوالے سے روتے روتے جو میں نے اللہ سے فریاد کی تھی اس کی رسائی یقیناً ہو چکی تھی۔ چنانچہ چند ہی دنوں کے اندر اندر لاہورسے میرے ایک دوست جناب شوکت علی کا خط موصول ہواکہ سٹی آف لاہور کارپوریشن میں ملازمتوں کے ایک اشتہار کے جواب میں جونیئر کلرک کی آسامی کے لیے آپ کی طرف سے ایک درخواست دی گئی تھی جس کے جواب میں آپ کو انٹر ویو کے لیے بلایا گیا ہے۔ اس خط میں مقررہ تاریخ تک پہنچنے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ اب ایک طرف ملازمت کی کشش اور دوسری طرف گھر چھوڑنے اور بہن بھائیوں سے بچھڑنے کا غم ایک عجیب صورتحال تھی۔ والدہ محترمہ کے بعد میری بڑی بہن مجھے سب سے زیادہ پیارکرتی تھیں۔ ان سے میری ذہنی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ جب ان کی شادی ہوئی تو میں چیختے چلاتے ہوئے رو رو کر یہ کہہ رہا تھا کہ ’’میں تو اپنی بہن کے ساتھ جاؤں گا‘‘۔ انہی ہمشیرہ صاحبہ نے مجھے انٹر ویو کے لیے انتہائی پیار بھرے انداز میں لاہور کے سفر پر آمادہ کر لیا۔ تو اب سنیئے قصہ ایک دیہاتی کے پہلی مرتبہ لاہور کے سفر کا۔ گاؤں کے موچی کی بنی ہوئی چمڑے کی جوتی پاؤں میں ٗسر پر گاؤں کی روایتی دیہاتی ململ کی پگڑی اور ہاتھ میں دستی بیگ لئے گرنا صاحب کے اسٹیشن سے سوار ہو کر جالندھر کے لیے روانہ ہو گیا۔ جالندھرسے ہوڑہ ایکسپریس کے ذریعے لاہور جانا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیند غالب آگئی۔ ایک مسافر نے پوچھا کہ ’’ بیٹے تم کہاں جاؤ گے؟‘‘گاڑی پلیٹ فارم سے خراماں خراماں روانہ ہو چکی تھی۔ گویا لاہور چھوڑ رہی تھی۔ میں نے افراتفری کے عالم میں جوتا پگڑی اور بیگ اٹھایا اور گاڑی سے اترنے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے حوصلہ تو نہیں چھوڑا تھاٗ سفر بھی پہلا اور وہ بھی لاہور کا۔ اس وقت میری عمر سولہ سال اور تین مہینے تھی۔ اور یہ۲۴۔اکتوبر ۱۹۴۲ء کی صبح کا واقعہ ہے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن سے باہر نکل کر کسی تانگہ پر بیٹھ جانا جہاں سے دو دو آنے میں تانگے والے سواریاں بٹھاتے ہیں اور ’’بھاٹی گیٹ ‘‘یا ’’داتا صاحب ‘‘کے مزار تک لے آتے ہیں۔ میں ریلوے اسٹیشن کی حدود سے باہر نکلا اور اپنے طور پر حالات کا جائزہ لیا تو ابھی صبح صادق نہیں ہوئی تھی۔ تانگے والے حسب معمول ہر سواری سے بیٹھنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ میں کسی تانگے پر بیٹھنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں تھا۔ داتا صاحب‘‘ جانے کا راستہ معلوم کرکے پیدل ہی چل پڑا۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک قدم آدم لیٹر بکس پر نظر پڑی( یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ یہ لیٹر بکس تھا) اس وقت تو میں اسے ڈیوٹی پر مامور پولیس کا سپاہی سمجھا تھا۔ میں نے ٹھیٹھ دیہاتی لہجے میں اسے ادب کے ساتھ سلام کیا۔ جب وہ خاموش رہا تو میں ڈر گیا کہ یہ ناراض ہو گیا ہے اور اس کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے اس کے قریب جانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ میں راستہ چھوڑکر اسکے قریب سے گزر گیا اور جو بھی راستے میں ملتا اسے السلام علیکم کے بعد راستہ پوچھتا۔ راستہ پوچھتے پوچھتے ’’داتا صاحب‘‘ کی مسجد کے باہر پہنچ گیا۔ ابھی تک فجر کی نماز کا وقت نہیں ہوا تھا۔ مسجد کے باہر والی ڈیوڑھی میں الٹے سیدھے جوتوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ ان جوتوں کے قریب بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے اشارہ کیا کہ یہاں جو تا رکھ دو لیکن میں نے جوتا اس کے حوالے کرنے کی بجائے اسے بغل میں چھپا لیا اور مسجد کے اندر چلا گیا۔ اندر جا کر ادھر ادھر کا جائزہ لیا اور بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی لیٹ گیا۔ تھکا ہارا ہونے کے ساتھ ساتھ خوفزدہ بھی تھا لیکن یہاں آکر یک گونہ اطمینان ہوا کہ مسجد کے اندر پہنچ گیا ہوں جہاں ساتھ ہی داتا گنج بخش رحمتہ اللہ کا مزار بھی ہے۔ بیگ اور پگڑی سرہانے رکھے اور جوتا ذرا فاصلے پر سامنے رکھ دیا۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور انہوں نے مجھے خبردارکرنے کے انداز میں کہا’’ جوتا سنبھال کر رکھو‘‘ حقیقت یہ ہے کہ میرے دل و دماغ پر اس تنبیہ کے بعد ایک ایسا لرزہ طاری ہوا جس سے میں خاصا متاثر ہوا۔ حیرت سے زیادہ دکھ اور تکلیف کی بات یہ تھی کہ مسجد کی حدودکے اندر داتا صاحب کے مزار کے عین قریب بھی اگر جوتا محفوظ نہیں ہے تو لاہور میں ٹھہرنا کیسے ممکن ہو گا۔ اب میرادیہاتی پن سمجھئے اسے سادگی کا نام دیجئے یا کچھ اور ۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے بارے میں انتہائی گھناؤنا تصور ذہن پر نقش ہو گیا۔ اس لیے کہ اول تو یہی تصور نہیں کیاجاسکتا تھا کہ مسجد میں جوتا محفوظ نہیں اور پھر ایسی مسجد جو داتا صاحب کا دربار بھی کہلاتی ہے۔ بہر حال یہ تو اس وقت کی بات ہے۔ تو اسے بد قسمتی کی انتہا ہی سمجھیئے کہ اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ یہاں جوتے کا خیال رکھنا تو جواب ملتا کہ یہ کوئی مسجد ہے؟ توخیر اس طرح میں لاہور پہنچ گیا۔ صبح ہوئی تو اپنے میزبان کا گھر تلاش کرنے لگا۔ ان کا گھر اس وقت دربار داتا صاحب کے قریب ہی ہجویری محلہ سے متصل شیش محل پارک میں عثمان غنی سٹریٹ میں تھا۔ جہاں میرے میزبان برادرم شوکت علی اپنے والد بزرگوار چودھری محمد شفیع کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ یہ ایک ہی کمرے کا گھر تھا جس کا کچن گلی میں تھا اور اس کا واش روم راوی کے کنارے ٗ گھر کی حدود میں ایسا کوئی انتظام نہیں جہاں آپ قضائے حاجت کرسکیں۔ اس گھر کا کرایہ چار روپے ماہوار تھا۔ گویا اب اس گھر کے مکینوں کی تعداد تین ہو گئی تھی۔ میرے لیے جو پہلو انتہائی خوشگوار تھااور زندگی بھر رہے گا۔

جواب دیں