"ایک قدآور شخصیت کا سفرِآخرت”

الطاف حسن قریشی

ہم اللّٰہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ جناب مصطفیٰ صادق اس دارِفانی میں ۸۶سال قیام کرنے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ انھوں نے اپنے کاروبارِزندگی میں رضائے الٰہی کا مقدوربھر خیال رکھا اور اپنے رب سے دعا مانگنے اور اس کی قبولیت پانے کا قرینہ اختیار کیا۔ وہ کسان خاندان کے چشم و چراغ تھے جس میں دین داری کا چلن تھا اور اس کا قومی تحریکوں سے ایک رشتہ جڑا ہوا تھا۔ اس ماحول میں نوجوان مصطفیٰ صادق نے تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ بھی شروع کردیا تھا۔ اُن کا خاندان ہوشیارپور سے ہجرت کرکے پاکستان آیا، تو وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی قلب و ذہن میں طوفان برپا کر دینے والی تحریروں کے اثر میں آ چکے تھے اور جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے اپنی بے پایاں صلاحیتوں کے ساتھ جماعت کو عوام کے اندر متعارف کرانے کے لیے شب و روز کام کیا۔ اسی زمانے میں انھیں جماعت اسلامی کے ترجمان روزنامہ ’’تسنیم‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا اور اسی تعلق نے آگے چل کر انھیں بڑے اخبارات میں ایک چھوٹے اخبار کا بہت بڑا قومی ایڈیٹر بنا دیا۔ اُن کے روزنامے ’’وفاق‘‘ نے ہماری قومی سیاست میں بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے جو تاریخ کا حصہ ہیں اور مردانِ کار کو عزیمت کی دعوت دیتے رہیں گے۔

قدرت نے جناب مصطفیٰ صادق کومفاہمانہ کردار ادا کرنے اور مخالف عناصر میں اتفاق ِرائے پیدا کرنے کا کمال وصف عطا کیا تھا۔ صلح جوئی، معاملہ فہمی اور دوراندیشی کو بروئے کار لینے کی تربیت انھوں نے مولانا ظفراحمدانصاری (مرحوم) سے حاصل کی تھی اور انہی کی قیادت میں اُنھوں نے ۱۹۷۳ء کے دستور کو سب کے لیے قابلِ قبول بنانے میں پس پردہ بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ اُنہی کی غیر معمولی صلاحیتوں کا نتیجہ تھا کہ جب ۱۹۷۷ء کے ابتدائی مہینوں میں بھٹو حکومت کے خلاف عوامی تحریک چل رہی تھی، تو حالات میں بڑھتے ہوئے بگاڑ پر قابو پانے کے لیے مسٹربھٹو مولانا مودودی سے ملاقات کے لیے اِچھرہ آئے تھے۔

ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ۱۹۷۲ء کے اوائل میں جب ماہنامہ ’’اُردُوڈائجسٹ‘‘ اور ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ بند اور ڈاکٹراعجازحسن قریشی، برادرم مجیب الرحمٰن شامی اور الطاف حسن قریشی پابندِسلاسل کر دیے گئے تو اس دورِابتلاء میں قومی اسمبلی کے اندر آزادیٔ صحافت کے حق میں ایک مؤثر آواز منظم کرنے میں جناب مصطفیٰ صادق نے ایک ٹیم کے ساتھ بڑی مردانگی، جرأت مندی، مستقل مزاجی اور اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کا ثبوت دیا اور جب لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اسیران رہا ہوئے، تو اُنھوں نے اُردُوڈائجسٹ کے چیف ایڈیٹر کی صدربھٹو سے ملاقات کا اہتمام کیا۔ اس وقت اپوزیشن کے تمام قائدین حراست میں تھے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کی گفتگو کے بعد بھٹوصاحب اُن کی رہائی اور اُن سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اسی طرح یہ بھی ایک امرِ واقعہ ہے کہ روزنامہ ’’جسارت‘‘ جو اپنی بے باکی اور صاف گوئی کے باعث بھٹوحکومت کی طرف سے پے درپے سختیوں کا نشانہ بنتا رہا، اس کے مسائل حل کرنے میں جناب مصطفیٰ صادق نے بہت سرگرم حصہ لیا۔ وہ اگرچہ ۱۹۵۶ء میں جماعت اسلامی سے الگ ہو گئے تھے، مگر ان کے دل میں اس کی قیادت اور وابستگان کے ساتھ احترام اور تعاون کا جذبہ بدستور موجزن تھا۔

وہ قومی اور بین الاسلامی سطح پر قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے اور انھیں ایڈیٹروں اور اخبار مالکان کی تنظیموں کا صدر منتخب کیا جاتا رہا۔ سالِ رواں آل پاکستان نیوزپیپرزسوسائٹی نے اُنھیں لائف اچیومنٹ ایوارڈ عطا کرتے ہوئے اُن کی صحافتی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وہ آج کے عہد کے بابائے صحافت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ بلاشبہ اُنھوں نے یہ مرتبہ غیرمعمولی جدوجہد، ریاضت، عملی فراست اور اللّٰہ تعالیٰ کے خاص فضل سے پایا تھا۔ دراصل وہ ایک بلند قامت صحافی کے علاوہ ایک فکری قائد اور ایک سیاسی دانش ور بھی تھے اور ہر قومی بحران کا حل تلاش کرنے میں سرگرداں دکھائی دیتے رہے۔ ان کا سب سے بڑا اور ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ اطاعتِ رسولﷺ کا جذبہ اُن کے انگ انگ میں رچا ہوا تھا۔ وہ سرکارِدوعالمﷺ کے روضے پر حاضری اور اللّٰہ کے گھر کی زیارت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے اور دوستوں کو بھی اس مبارک سفر میں شامل کرنے پر پیش پیش رہتے۔ ان کے حکمرانوں، دینی راہ نماؤں اور سیاسی لیڈروں کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے اور وہ ان کے ذریعے قومی اور نظریاتی قوتوں کو خاموش کمک پہنچانے کا عظیم کام انجام دیتے رہے۔ اس پورے سفر میں جناب جمیل اطہر ان کے مضبوط دست و بازو ثابت ہوئے۔ ہم آج ایک شجرِسایہ دار سے محروم ہو گئے ہیں اور ہمارے ساتھ ان کے اَن گنت سوگوار اپنے رب کے حضور دعا مانگ رہے ہیں کہ اللّٰہ ان کی قبر کو نور سے معمور کر دے، ان کے پسماندگان کو صبرِجمیل عطا کرے اور اُن جیسی صفات کے حامل انسان ہمارے اندر پیدا کرتا رہے جو روشنی کے منار ثابت ہوں۔

جواب دیں