منفرد اخبار نویس کی کہانی۔۔۔ اُنہیں کی زبانی سنتے ہیں۔

معروف صحافی و سابق وفاقی وزیر مصطفی صادق طویل علالت کے بعد 21 نومبر بروز سوموار اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ :
’’جناب مصطفےٰ صادق صحافتی دنیا کا ایک منفرد نام ہیں۔ میں نے کئی سال پہلے’’جنگ‘‘ میں اخبارات اور اُن کے مدیران سے متعلق ایک کالم میں جناب مصطفےٰ صادق اوران کے متعدد شہروں سے شائع ہونے والے روزنامہ ’’وفاق ‘‘کے حوالے سے لکھاتھا:’’بلدیاتی سطح کا اخبار وفاقی سطح کا کردار ‘‘ احباب نے اپنی اپنی وجوہ کی بنا پر اس جملے پر بڑی داد دی مگر حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس جملے کے ذریعے مصطفےٰ صادق کی انفرادی خدمات اور کردار کو سراہا اوراُن کا اعتراف کیا تھا۔ زیر نظر انٹرویو میں جناب مصطفےٰ صادق نے ایک بڑا معنی خیز جملہ کہا ہے کہ’’میں وفاق کو بے شک ایک ’’بڑا‘‘ اخبارنہیں بناسکا مگر میں نے اُسے ایک ’برُا‘ اخبار بھی نہیں بننے دیا‘‘ان کا یہ تبصرہ آج کی اخباری صحافت اوراُس کے رجحانات پر بجائے خود ایک انتہائی بلیغ تبصرہ ہے۔ بہرحال میں جناب مصطفےٰ صادق کے اس مصالحانہ کردار سے بے حد متاثر رہا ہوں جو انہوں نے مختلف قومی معاملات میں بالعموم اوربھٹو اور ان کے مخالفین کے مابین بالخصوص سرانجام دیا ۔میں نے لگ بھگ اٹھارہ بیس برس پہلے اُنہیں اپنی یادداشتیں ترتیب دینے کی تجویز دی تھی مگر وہ ہر بار طرح دیتے رہے اُن کااستدلال تھا کہ وہ بہت سے معاملات پر اس لئے لب کشائی نہیں کرنا چاہتے کہ اُن کا اظہار خیال نہ صرف کئی اعتبار سے قومی مفاد کے منافی ہوگا بلکہ اس سے بعض زندہ یا مرحوم شخصیات کے امیج پر بھی حرف آسکتا ہے۔ بہرحال میں نے اُن کا مسلسل تعاقب کیااور بالآخر اُنہیں اس طویل انٹرویو کیلئے آمادہ کرہی لیا۔ اس انٹرویو میں بلا شبہ متعدد قومی معاملات پر جناب مصطفےٰ صادق کی یادداشتیں ریکارڈ ہوئی ہیں مگر ابھی بہت سارے معاملات پر اُن کا ورژن اور مزید وضاحتی موقف لینا باقی ہے۔ جناب مصطفےٰ صادق نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس انٹرویو میں ’توسیع‘ کریں گے اور کسی آئندہ نشست میں ممکن حد تک مزید اہم واقعات منکشف کریں گے۔ جناب مصطفےٰ صادق کا کہنا ہے کہ مختلف فریقین کے مابین مصالحت اور مفاہمت کے حوالے سے اُنہوں نے ایک اخبار نویس کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ جبّلت کو دباتے ہوئے بڑی قربانیاں دی ہیں‘ بڑے بڑے Scoopsکو اس لئے اخبار کے صفحات کی زینت نہیں بنایا کہ وہ مختلف رازوں کے سچے امین ہونے کا حق ادا کرنا چاہتے تھے۔ میں نے بھی اُن کی اس خواہش کے احترام میں اُنہیں ایک حد سے زیادہ کریدنے کی کوشش نہیں کی ۔ بہرحال آےئے۔۔۔ ایک منفرد اخبار نویس کی کہانی۔۔۔ اُنہیں کی زبانی سنتے ہیں۔‘‘
محترم مظفر محمد علی مرحوم کو کیا معلوم تھا کہ وہ جناب مصطفی صادق سے دوسری نشست سے قبل ہی موت سے جنگ لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار جائیں گے اور اس انٹرویو میں مزید توسیع نہ کر پائیں گے مگر یہ انٹرویو محض ایک انٹرویو ہی نہیں‘ حقائق و واقعات کے اعتبار سے ایک تاریخی دستاویز بھی ہے۔
س:۔خاندانی پس منظر ‘ والدین ‘تعلیم وتربیت‘ اساتذہ ‘بہن بھائی‘ دوست مختصر مختصر یادیں؟
ج:۔ میں انتہائی بے تکلفی سے عرض کرنا چاہتاہوں کہ میں خالصتاً ایک ایسے دیہاتی ماحول میں پرورش پاتا رہا ہوں جہاں میرے اسلاف کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے ۔چنانچہ میں خود بھی جونہی آٹھ دس سال کی عمر کو پہنچا کاشتکاری سے متعلق کاموں میں حصہ لیتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں جب ہل چلانے کے قابل ہوا تو میں نے ہل بھی چلایا ٗ فصل کاشت کرنے ٗتلائی کرنے اورفصل بالخصوص گندم کی کٹائی میں بھی حصہ لیا۔ زندگی کی اہم ترین داستان ہماری زندگی کے وہ انتہائی ہولناک لمحات ہیں جب ہم اور ہمارے یہ بزرگ ۱۹۴۷ء کے فسادات میں پہلو بہ پہلو مسلح حملہ آوروں کا مقابلہ کررہے تھے۔ پچپن کی یادوں سے ۱۹۴۷ء کے دلخراش واقعات کا تذکرہ اتفاق سے نوکِ زبان پر آگیا ہے۔ وہ بھی اس لیے کہ ذکر ایک ایسے بزرگ کا چھڑ گیا تھا جن کے ساتھ چودہ پندرہ سال کی عمر میں فصل کی کٹائی کر رہا تھا اور جیسا کہ عرض کیا ۱۹۴۷ء کے فسادات میں انہی بزرگوں کی معیت میں حملہ آوروں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے بتوفیق ایزدی دو حملہ آوروں کی گردن کاٹنے کا اعزاز حاصل کر رہا تھا۔ اس مرحلے پر یہ بھی عرض کر دوں کہ قیام پاکستان کے
مراحل سے گزرتے ہوئے مجھے جن حوادث سے دوچار ہونا پڑا اور قائداعظم ؒ کی قیادت میں مسلم لیگ کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے جو خدمات سرانجام دینے کی مجھے سعادت حاصل ہوئی۔ ان واقعات کی تفصیلات چند سال پہلے میں اپنے مضامین میں تحریر کر چکاہوں جن کے مطالعے کے بعد ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ان مضامین کی نقل نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے دفتر میں بھجوادیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تحریریں آپ کے لیے تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ کا اعزاز حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ چنانچہ ۲۰۰۳ء میں ۔۔۔میں اسے اپنی خوش قسمتی قرار دوں گا۔۔۔ مجھے یہ پیغام موصول ہوا کہ آپ کے لیے متعلقہ گولڈ میڈل منظور کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ ۲۰۰۳ء میں ایک انتہائی باوقار تقریب میں گورنر پنجاب جناب خالد مقبول نے ان الفاظ کے ساتھ مجھے ایک تاریخی سند سے نوازا اور اپنے ہاتھوں سے گولڈ میڈل بھی پہنایا کہ ’’ تحریک پاکستان کے سلسلے میں قوم کی طرف سے یہ آپ کی خدمات کا اعتراف ہے‘‘۔ اب مجھے اپنے بچپن کی طرف واپسی کے سفر کی اجازت دیجئے۔ جیسا کہ شروع میں عرض کر چکاہوں میں ایک کاشتکار فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرا شمار ان بچوں میں تو کسی طرح بھی نہیں ہو سکتا جو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیداہوتے ہیں۔ تاہم مجھے اپنے گاؤں موضع بیرچھا تحصیل دسوہا ( ضلع ہوشیار پور) کے انتہائی صاف ستھرے ماحول میں گھی کا چمچہ شروع سے ہی نصیب ہوتا رہا ہے۔ بلکہ یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ میری والدہ محترمہ اوس پڑوس کے چند ایسے گھروں میں زندگی بھر دودھ لسی اور کبھی کبھی مکھن بھی بھجواتی رہی ہیں جنہیں یہ نعمتیں نصیب نہیں ہوتی تھیں۔ والدہ مرحومہ کا ذکر آیا تو میں اپنے بچپن کی اس انتہائی خوشگوار یاد کا حوالہ دینے میں بھی فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سے ’’ اماں جی‘‘ کا سب سے زیادہ لاڈلا بیٹا تھا۔’’ اماں جی‘‘ جب فجر کی نماز سے پہلے چکی پیستی تھیں۔ وہ چکی جس کی آواز سے زیادہ سوز و گداز پر مبنی سریلی آواز کے لیے میں آج تک ترستا ہوں۔ اماں جی ورد کرتی ہوئی۔ بالعموم سوھنے اللہ ٗ سبحان اللہ کے کلمات آپ کی زبان پر جاری رہتے تھے۔ میرے سر پر ہاتھ پھیرتیں اور پیار بھرے انداز میں آواز دیتیں بیٹے اٹھو ٗ نماز کا وقت ہونے والا ہے‘‘ اپنی اماں جی کے بارے میں چلتے چلتے یہ بھی عرض کردوں کہ ۱۹۴۷ء کے فسادات میں جب ہمارے اپنے گاؤں اور دوسرے قریبی دیہات پر ریاست پٹیالہ کی فوجوں کے تعاون سے حملے ہو رہے تھے تو امانت کے طور پر بلامبالغہ سیروں کے حساب سے سونا چاندی اور دوسرے زیورات ہمارے گھر میں جمع ہو چکے تھے۔ ایک اس وجہ سے کہ بفضلہ تعالیٰ والدہ مرحومہ کی امانت و دیانت کی دھوم علاقہ بھر میں مچی ہوئی تھی اور دوسرے ہمارا گھر بھی مرکزی جگہ پر ہونے کے باعث بظاہر محفوظ ترین گھر تصور کیا جاتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے کردار میں جو بھی خوبی موجود ہے اور بچپن سے چلی آرہی ہے اس کا سو فیصد انحصار والدہ مرحومہ کی تربیت ہی کا مرہون منت ہے۔
بچپن کی یادوں میں سے یہ بات بھی ذہن میں پوری طرح محفوظ ہے کہ جب پہلے دن میں داخلے کے لیے گیا تو میرے بڑے بھائی چودھری قدرت علیؒ میری انگلی پکڑے ہوئے اس حالت میں اسکول لے جارہے تھے کہ میرے سر
پر موتیوں والی ٹوپی تھی۔ دیہاتی رواج کے مطابق کندھے پر تولیہ اور ایک ہاتھ میں بتاشوں کا بنڈل۔ میرا بستہ۔ اور تختی بھائی صاحب نے اٹھا رکھے تھے۔ جاتے ہی جب اسکول کے اول مدرس( ہیڈ ماسٹر) ماسٹر نواب علی سے میرا تعارف کرایا گیا اور میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی تختی پر محترم ماسٹر صاحب کی نظر پڑی تو مجھے دوسرے ماسٹر صاحب کے پاس لے گئے اور کہا کہ یہ بچہ کچی پہلی والا تو نہیں ہے۔ اسے ابھی سے پکی پہلی میں داخل کرلیں۔چنانچہ انہوں نے مجھ سے قاعدہ سنا۔ جب میں نے فرفر الف سے ی تک پڑھ کر سنادیا تو انہوں نے میرے بھائی کی موجودگی میں خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ تو گھر سے پڑھ کر آیا ہے۔ بس پہلے دن کی کارروائی اسی پر ختم ہو گئی۔ مجھے اسکول میں داخل کر لیا گیا۔ گویا میرے نام کا اندراج پہلی پکی کے رجسٹر میں ہو گیا اور میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ واپس آگیا۔ اب میں ہر روز تقاضا کرتا تھاکہ بھائی صاحب مجھے اسکول چھوڑنے جائیں اور لے کر آئیں۔ لیکن لاڈ پیار کی باتیں اپنی جگہ رفتہ رفتہ میں اسکول جانے کاعادی ہو گیا۔ اسکول کی دیوار سے بالکل متصل میرے ماموں کا گھر تھا جہاں میں آدھی چھٹی کے وقت روزانہ جاتا اور کچھ کھا پی کر واپس آجاتا۔ اسی طرح دن گزرتے گئے اور میں نے پرائمری کا امتحان پاس کر لیا۔ اب سوچتا ہوں تو خود بھی حیران ہوتا ہوں کہ چوتھی جماعت پاس کرنے تک میں قرآن پاک ناظرہ بھی ختم کر چکا تھا۔ جس پارے میں میرا سبق ہوتا تھا وہ پارہ ہر وقت میرے ساتھ رہتا۔ بڑے بھائی ٗ والد صاحب ٗ جو بھی دوسرے رشتہ دار راستے میں ملتے ان کو اپنا پہلا سبق سنا کر نیا سبق لے لیتا تھا۔ اس دوران میں گاؤں کی مسجد میں میری حاضری اتنی باقاعدہ تھی کہ فارغ اوقات میں اذان بھی میں ہی دیتا تھا۔ مسجد کے میاں جی ( امام صاحب) آتے تو مجھے شاباش بھی دیتے اور مجھ سے تکبیر بھی پڑھواتے ۔ ان امام صاحب کی ہر نماز کے بعد مستقل دعا یہ ہوتی تھی۔ یا اللہ ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ ہماری عزت کی حفاظت فرما اور ہماری صحت کی حفاظت فرما۔ ان دنوں گاؤں کے چار بزرگ ایسے تھے جو باقاعدگی کے ساتھ باجماعت نماز کا اہتمام کرتے تھے۔ان کے اسماء گرامی آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ایک تو ایسے بزرگ تھے جو صرف’’ باواجی ‘‘کے نام سے معروف تھے۔ ان کے خاندان میں سے جسٹس محمد عارف آجکل افریقہ کے کسی ملک میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہیں۔ جسٹس عارف کے بڑے بھائی ڈاکٹر شفیق ( غالباً انہیں ستارہ امتیاز کا تمغہ بھی ملا تھا) پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین رہے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق صاحب کے حوالے سے ایک عجیب واقعہ یاد آگیا۔ ان کے والد چودھری محمد اقبال مرحوم کی تعزیت کے لیے میں اور میری اہلیہ مرحومہ جب ان کے گھر گئے تو شفیق صاحب نے میری اہلیہ کا خیر مقدم کچھ ایسی عقیدت اور احترام کے ساتھ کیا کہ میں نے واپسی پرحیرت کا اظہارکرتے ہوئے اپنی اہلیہ سے استفسار کیا تو مجھے بتایا گیا کہ ۱۹۴۷ء کے فسادات میں حملہ آوروں نے ان کی والدہ کو بری طرح زخمی کردیا تھا جس کی وجہ سے وہ خود اپنے قدموں پر چلنے کے قابل بھی نہ رہی تھیں۔ میں نے انہیں کافی دیر تک اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا۔ ڈاکٹر شفیق نے ان الفاظ سے میری اہلیہ کا خیر مقدم کیا تھا I owe Too much to this great Ladyشاید اسی وجہ سے ڈاکٹر شفیق نے میری اہلیہ کا استقبال ان الفاظ سے کیا تھا۔

جواب دیں