ملک کے تمام اہم سیاستدانوں کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی ملاقاتیں/ واقعات؟

ملک کے تمام اہم سیاستدانوں دولتانہ، شوکت حیات، مفتی محمود، اصغر خان، اکبر بگٹی، بزنجو، جی ایم سید، ولی خان، غفار خان، شاہ احمد نورانی، نوابزادہ نصراللہ، عطاء اللہ مینگل، ممتاز بھٹو، حفیظ پیرزادہ، فاروق لغاری اور دیگر کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی ملاقاتیں/ واقعات؟
ج: آپ کے سوال میں بعض انتہائی اہم شخصیات کے نام شامل نہیں ہیں۔ مثلاً دولتانہ اور شوکت حیات کے ساتھ نواب افتخار حسین ممدوٹ اور میاں افتخار الدین کے ناموں کا شامل ہونا ضروری تھا۔ میں اس سے پہلے کہیں ذکر کر چکاہوں کہ پنجاب کی سیاست میں نواب ممدوٹ اور دولتانہ کے اختلافات نے خاصا خلفشار پیدا کیا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نواب افتخارحسین ممدوٹ نے قائداعظم کی اپیل پر تمام سرکاری القابات کو اپنے لیے ممنوع اور متروک قرار دیدیا تھا۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ممتاز دولتانہ سیاسی معاملات میں زیادہ ہوشیار اور بعض لوگوں کے نزدیک عیار تصورکئے جاتے تھے اور نواب افتخار حسین ممدوٹ سراپا شرافت اور سنجیدگی کا مظہر تھے۔ ان کے باہمی اختلافات کے دوران ہی میاں افتخار الدین نے سردار شوکت حیات کو اپنے ساتھ ملا کر نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے نئی پارٹی قائم کر لی جو کافی عرصے تک مختلف سیاستدانوں کی زیر قیادت سرگرم عمل رہی۔ مجھے قیام پاکستان سے قبل کا ایک واقعہ یاد ہے۔ میں پہلے کو تحریک کی قیادت کا اعزاز بخشا گیا جس وجہ سے تحریک پر سیاست کی بجائے دینی جذبات غالب رہے۔ تحریک کی کامیابی کے بعد اگرچہ بعض عناصر نے تحریک کے بنیادی عناصر سے اختلاف کرتے ہوئے یہ رائے قائم کی کہ اس تحریک کا مقصد صرف ذوالفقارعلی بھٹو کو اقتدار سے الگ کرنا تھا۔ حالانکہ عام لوگوں نے نظام مصطفی کے نام پر تحریک کے لیے قربانیاں دی تھیں ۔ مجھے یاد پڑتاہے کہ ایئر مارشل اصغر خاں نے بھی آخری مرحلے پر یہی موقف اختیارکیا تھا کہ ہم سب لوگ مسٹر بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایک ہوئے تھے۔ مجھے ان کے اس بیان سے ذاتی طور پر سخت صدمہ ہوا اس لیے کہ وفاق تحریک کے رہنماؤں کی سرگرمیوں کو جس انداز سے مشتہر کر رہا تھا ہمیں اچھی طرح معلوم تھا کہ کون سے سیاسی راہنما کا کیا رو ل ہے۔ جہاں تک ایئر مارشل اصغر خاں کا تعلق ہے موصوف نے بذات خود انارکلی میں دینی کتابوں کے معروف مرکز ’’ادارہ اسلامیات ‘‘سے قرآن پاک کے دو نسخے خرید ے۔ ایک نسخہ اپنے گلے میں حمائل کیا اور دوسرا ہاتھ میں اٹھا کر فضا میں لہرایا۔ ان کی یہ دونوں تصویریں ’’ وفاق‘‘ میں شائع بھی ہو چکی تھیں اور ہمارے پاس موجود بھی تھیں۔ چنانچہ ان کے پہلے بیان پر جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو وہ مری میں علامہ احسان الٰہی ظہیر کے ہمراہ مقیم تھے میرے استفسار پر انہوں نے یہی موقف اختیار کیا کہ ہماری اس تحریک کا مقصد صرف مسٹر بھٹو کو اقتدار سے الگ کرنا تھا۔ میں نے اس گفتگو پر اکتفاکرنے کی بجائے ان سے ملاقات کا وقت طے کیا اور اس ملاقات کے لیے صحافتی برادری میں ان کے اہم دوست جنگ راولپنڈی کے انچارج جناب شورش ملک کو اپنے ہمراہ لیا۔ اور ایبٹ آباد میں ایئر مارشل اصغر خان کی قیام گاہ پر ملاقات کے لیے جا پہنچے ۔ میں نے باتوں باتوں میں ایئر مارشل کو وہ دونوں تصویریں دکھائیں۔ ایئر مارشل صاف گو آدمی ہیں۔ انہوں نے بڑی صفائی کے ساتھ اعتراف کیا کہ ہم بھی اسلام نافذ کرنے کے قائل تو ہیں لیکن ہمیں میاں فضل حق والے اسلام سے اختلاف ہے۔ اپنے اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ایئر مارشل نے کہا کہ پچھلے دنوں ایبٹ آباد میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا جس میں میاں فضل حق نے نظام اسلام کے نفاذ کے سلسلے میں تقریر کی۔ میں نے اپنی باری پر جو کچھ کہا اس کا مدعا یہ تھا کہ اسلام تو ہم بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا اسلام جس میں گلیوں کی صفائی اور روشنی کا بھی انتظام ہو گویا ان کے نزدیک میاں فضل حق ایسے اسلام کے قائل نہیں تھے۔ جس کا ذکر ایئر مارشل کر رہے تھے۔ دراصل ایئر مارشل نے انتہائی بے جا انداز میں اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ورنہ سچی بات یہ ہے کہ جب میں نے ان کے سامنے انہی کی وہ دونوں تصویریں پیش کیں تو ان کے پاس میرے سوال کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں تھا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض دوسرے سیاسی راہنما بھی یہی موقف اختیارکئے ہوئے تھے کہ تحریک کا اصل مقصد محض مسٹر بھٹو کو اقتدار سے ہٹانا تھا۔بھی کہہ چکاہوں کہ میں قائداعظم کی شخصیت سے متاثر ہوکر مسلم لیگ کے ادنی کارکنوں میں شامل رہا ہوں۔ ایک دفعہ ایک اخبار میں اشتہار شائع ہوا کہ مسلم لیگ سے تعاون سے خواہش رکھنے والے کارکن سردار شوکت حیات سے رابطہ قائم کریں۔ اس اشتہار میں سردار صاحب کے گھر کا مکمل پتہ بھی درج تھا اور انہیں بالعموم شوکت پنجاب کا نام دیا جاتا تھا۔ میں اسے اپنی سادگی ہی قراردوں گا کہ اس اشتہار کے مطالعے کے بعد تلاش کرتے کرتے میں سردار شوکت حیات کے گھر پہنچ گیا اور باربار دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود کتوں کے بھونکنے کے سوا اور کوئی آواز سنائی نہ دی میں بچپن ہی سے کتوں سے بہت زیادہ خوف زدہ رہا ہوں اور پھراتنی بڑی کوٹھی اور اتنے بڑے سردار کے کتے ۔ سچی بات یہ ہے کہ میں بے حد پریشانی ٗ سراسیمگی اور کسی حد تک بیزاری کے عالم میں سردار صاحب کی قیام گاہ سے واپس پلٹ آیا۔ اس فہرست میں فیروز خان نون کا نام بھی درج نہیں ہے۔ حالانکہ ہماری قومی سیاست میں ان کا خاصا کردار تھا۔ میں ایک واقعہ بطور خاص بیان کرنا چاہتاہوں۔ سردار صاحب بحیثیت وزیر خارجہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے والے تھے ۔ روانگی سے قبل انہوں نے لاہور کے مدیرانِ جرائد سے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے دفتر میں ملاقات کی۔ ان دنوں یہ دفتر ایبٹ روڈ پر ہوتا تھا۔ انہوں نے ابتدا ہی میں اخبار نویسوں کو سوالات کرنے سے منع کردیا۔ اور ڈکٹیشن دینا شروع کر دی۔ ان دنوں میں ’’ تسنیم‘‘ کی طرف سے اپنے ادارے کی نمائندگی کیا کرتا تھا اور ’’احسان‘‘ کی طرف سے آئی ایچ راشد صاحب آیا کرتے تھے۔ مسٹر راشد نے کشمیر کے بارے میں ملک فیروزخان نون سے کوئی ایسا سوال کر دیا جو انہیں خاصا ناگوار محسوس ہوا اور وہ سخت برہمی کے انداز میں بولے کہ ’’مجھے یہی اندیشہ تھا کہ‘‘ تسنیم‘‘ والے باز نہیںآئیں گے۔ اصل میں میری اور راشد صاحب کی ڈاڑھی سائز کے اعتبار سے کم و بیش یکساں ہی تھی۔’’تسنیم‘‘ سے بالعموم حکمرانوں کو ایسی شکایت رہتی تھی’’ احسان‘‘ سے ایسا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔ تاہم میں نے یا کسی دوسرے نے کسی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی اور بات آئی گئی ہو گئی۔ حضرت مولانا مفتی محمود کے بارے میں بعض واقعات کا ذکر کیاجا چکاہے ٗ لیکن ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی کے بارے میں ان کے تاریخی کردارکا ذکر نااز بس ضروری ہے ۔ تحریک کی قیادت کا فیصلہ کرتے وقت بعض حضرات کا خیال تھا کہ ایئر مارشل اصغر خان کو تحریک کا سربراہ بنایاجائے۔ لیکن بالآخر اتفاق رائے سے مفتی محمود ہیس

جواب دیں