سردار فاروق خان لغاری سرکاری ملازمت چھوڑ کر سیاست میں خوب دھوم دھڑکے سے آئے

جناب سردار فاروق لغاری کا۔ سردار فاروق خان لغاری سرکاری ملازمت چھوڑ کر سیاست میں خوب دھوم دھڑکے سے آئے اور جلد ہی انہیں سیاسی میدان میں خاص اہمیت حاصل ہوگئی۔ ہمارے ایک بزرگ سردار محمد اجمل خاں لغاری(مرحوم) ایک طویل عرصے تک جماعت کی مجلس شوریٰ کے رکن رہے ہیں۔ میرے بھی ان سے نیاز مندانہ تعلقات تھے۔ جن دنوں سردار فاروق لغاری نے عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ٗ اتفاق سے مولانا ظفر احمد انصاری اور سرداراجمل خاں لغاری لاہور میں قیام پذیر تھے۔ ان دونوں حضرات نے مجھے بھی ساتھ لیا اور گلبرگ میں ان کی قیام گاہ پر ملاقات کے لیے جا پہنچے۔ میں اگرچہ سردار اجمل خاں لغاری کو ملکی سطحپر ان کے تعلقات کے پیش نظر لغاری خاندان کے بزرگوں میں شمارکرتا تھا لیکن انہوں نے فاروق لغاری کی قیام گاہ پر ان سے ملاقات کے دوران بتایا کہ سردار فاروق خان ہمارے لغاری قبیلے کے سربراہ ہیں باتو ں باتوں میں فاروق لغاری نے یہ بھی بتایا کہ میں پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہا ہوں۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کے محترم چچا جان سردارعطا محمد خاں لغاری تو آئی جے آئی کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں لیکن آپ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ میری اس سادگی پر انہوں نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور بس۔ اس کے بعد سردار فاروق لغاری سے وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہی۔

ان کے گھر کے ماحول پر اسلام کا رنگ غیر معمولی حد تک غالب تھا۔ ان کی والدہ محترمہ ہی نہیں ان کی اہلیہ بھی حجاب کی سختی سے پابندی کرتی تھیں۔’’وفاق‘‘ ان کے گھر میں باقاعدہ پڑھا جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ خود ہی فاروق لغاری نے اپنی والدہ محترمہ کے حوالے سے مجھے بتایا کہ آپ کے دوست مصطفی صادق کا اخبار تو آپ کی پارٹی اور آپ کے لیڈر کی سخت مخالفت کرتا ہے لیکن آپ اسے اپنا دوست بھی کہتے ہیں اور پیپلز پارٹی سے بھی وابستہ ہیں۔ سردار فاروق لغاری نے حسب معمول یہ واقعہ سنا کر بھی بس ایک ہلکا سا قہقہ لگا دیا ظاہر ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت جان بوجھ کر اختیار کی تھی اور وہ جلد ہی پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت میں نمایاں حیثیت اختیارکر گئے تھے۔ میرے ساتھ اچھے دوستوں کے سے تعلقات نبھانے میں بھی انہوں نے عام سیاستدان سے لے کر صدرِ مملکت کے عظیم منصب پر پہنچنے تک مثالی کردار ادا کیا۔ چنانچہ جب میں ۱۹۹۳ء میں اے پی این ایس کا صدر تھا تو اے پی این ایس کی طرف سے ایوارڈ تقسیم کرنے کی سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کے لیے لغاری صاحب اپنی آمادگی ظاہر کرچکے تھے۔ اجلاس کے انعقاد سے قبل مجھے ان کا فون آیاکہ میں تو سمجھتا تھاکہ صحافتی برادری میں آپ کے سب کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں ۔ لیکن آپ کے بعض دوست اے پی این ایس کی سالانہ تقریب میں شرکت سے منع کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں آپ سے وعدہ کرچکا ہوں اور اپنے وعدے پر قائم ہوں لیکن آپ کے دوستوں کی طرف سے اختلاف رائے کا سخت افسوس ہورہا ہے۔ اے پی این ایس کا یہ اجلاس کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں ہونے والا تھا۔ اجلاس کے انعقاد سے کم و بیش آدھ گھنٹے پہلے میں نے ایوانِ صدر کراچی میں لغاری صاحب سے ملاقات کی اور مجوزہ اجلاس کی کارروائی کے بارے میں انہیں بریف کرکے جلد ہی ضروری انتظامات کے لیے بیچ لگژری ہوٹل پہنچ گیا۔ جہاں اس قسم کی افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ فاروق لغاری صاحب نے اسلام آباد سے اپنی معذرت کا اظہار کر دیاہے اور گورنر سندھ بھی کراچی سے کہیں باہر جا چکے ہیں۔ میں نے ان افواہوں کی تردید کی اور یہ بھی بتایا کہ لغاری صاحب اس وقت ایوانِ صدر کراچی میں ہیں جن سے میں ملاقات کرکے آرہاہوں اور وہ جلد ہی ہماری تقریب میں پہنچنے والے ہیں۔ چنانچہ حسب روایت اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کے ارکان نے مہمان خصوصی کے استقبال کے لیے صف بندی کر لی۔ اتنے میں وزیراعلیٰ( سندھ) سید عبداللہ شاہ بھی تشریف لے آئے اور فاروق لغاری بھی مقررہ وقت پر ہماری اس تقریب میں شمولیت کے لیے پہنچ گئے۔ سردار فاروق لغاری کی صدارت کے دوران مختلف علماء کے وفود بھی ان سے اسلام آباد اور لاہور میں اجتماعی ملاقاتیں کرتے رہے جن کے اہتمام میں بالعموم مجھے بھی دخل ہوتا تھا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران سردار فاروق خاں لغاری ساہیوال جیل میں نظر بند تھے اور نوابزادہ نصراللہ خاں بہاولپور جیل میں۔ایم آر ڈی کی تحریک کے آغاز میں پی آئی اے کے ایک طیارے کے اغواء کی واردات کے فوراً ہی بعد ایم آر ڈی کے ایک بانی رکن سردار محمد عبدالقیوم نے ایم آر ڈی سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا خیال تھا کہ شاید بعض دوسرے سیاسی راہنما بھی ان کی پیروی کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ میں نے صدر مملکت جنرل ضیاء الحق سے ایک ملاقات کے موقع پر انہیں توجہ دلائی کہ وزیراعظم بھٹو کے دور حکومت میں جن مختلف سیاستدانوں کے خلاف نظر بندی کے احکامات جاری ہوئے تھے ان میں اگرچہ نوابزادہ نصراللہ خان بھی شامل ہوتے تھے لیکن انہیں کسی جیل میں بھیجنے کی بجائے ہمیشہ ان کے گھر پر ہی نظر بند کردیاجاتا تھا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ بھی انہیں جیل کے بجائے ان کے گھر پر ہی نظر بند کریں۔ ان کے ساتھ ہی میں نے سردار فاروق لغاری کا ذکر بھی کیا۔ عجیب بات ہے کہ اس وقت جنرل ضیاء الحق کو بہت سے دوسرے سیاسی راہنماؤں کی طرح ان دونوں کے بارے میں بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون سی جیل میں نظر بندی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے میری اس رائے سے اتفاق کیا اور اسی وقت ان دونوں راہنماؤں کو جیل سے نکال کر پابند مسکن کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ چنانچہ اگلے دن میں نے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے باقاعدہ منظوری لی اور تحریری اجازت نامہ لے کر سردار فاروق لغاری سے ملاقات کے لیے ان کی قیام گاہ پر جا پہنچا۔ سردار صاحب مجھے دیکھ کر بے حد حیران ہوئے۔ بہرحال انہوں نے اپنی مہمان نوازی کی روایات نبھاتے ہوئے میرے لیے کھیر(دودھ) والی کافی کا آرڈر دیا۔ اور اپنے لائبریری روم میں بیٹھ کر ساہیوال جیل سے اپنے گھر میں منتقلی کا واقعہ خوب مزے لے لے کر سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے ساہیوال کے داروغہ جیل نے پیغام دیا کہ آپ تیاری کر لیں۔ آپ کو شفٹ کرنا ہے۔ میں نے اپنے جیل کے کمرے میں معمول کی ورزش کا اہتمام کر رکھا تھا جس کے لیے ضروری سامان بھی فراہم کیا ہوا تھا۔ بہرحال میں نے اپنا سامان Wind up کیا اور شفٹنگ کے لیے تیار ہو گیا۔ جیل حکام نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور گھومتے گھماتے تقریباً ڈھائی بجے رات میرے گھر کے دروازے پر اتار دیا۔ گھر کا پھاٹک کھلنے کے بعد جب میں اندر داخل ہوا تو مجھے ایک حکم نامہ دیدیا گیا جس میں لکھا گیا تھا کہ آپ کے گھر کو سب جیل کی حیثیت دی جارہی ہے۔ گویا اپنی رہائش گاہ کی حدود میں نظر بندی کی سزا بھگتنی ہے۔ میں ان کی گفتگو دلچسپی سے سنتا رہا۔ انہوں نے میرے چہرے پر مسکراہٹ کے آثار دیکھتے ہوئے استفسار کیا کہ ’’ جناب کیا آپ کو معلوم تھا کہ میں گھر منتقل ہو گیا ہوں ٗ اور اسی لیے آپ ملاقات کے لیے آ گئے ہیں؟‘‘ سردار صاحب نے صرف اسی سوال پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بلا تاخیر اپنا یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ میری شفٹنگ میں آپ کی کسی کوشش کو دخل ہے تو میں یہ عرض کردوں کہ میں صدر ضیاء الحق سے ملاقات نہیں کروں گا میں نے بھی ان کی تشویش دور کرنے کے لیے فوراً ہی عرض کر دیا کہ ایسی کسی فکر مندی کی ضرورت نہیں ہے۔ سرے سے ایسا کوئی پروگرام یا منصوبہ پیشِ نظر نہیں چنانچہ کسی بھی مرحلے پر اس کی نوبت نہیں آئی کہ انہیں صدر ضیاء الحق سے ملاقات کے لیے کہا جاتا۔

جواب دیں