مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے لیے سزائے موت کا حکم سنادیا گیا

ان دنوں اس مسجد میں تحریک ختم نبوت کے راہنماؤں اور کارکنوں کے اجلاس ہوا کرتے تھے۔ یہاں بالعموم مولانا عبدالستار خاں نیازی ختم نبوت کے موضوع پر تقریر یں کیاکرتے تھے۔ مقامی پولیس ان کو گرفتارکرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اس مسجد کا رخ کرتی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کارکنوں کے غیض و غضب اور مزاحمتی کوششوں کے اندیشے کے پیش نظر پولیس انہیں یہاں سے گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ایک مرحلے پر یہ بھی سننے میں آیا کہ مولانا نیازی مسجد وزیر خاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہو گئے تھے جہاں سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے ساتھ ہی ’’زمیندار ‘‘کے ایڈیٹر مولانا اختر علی خاں کو بھی حراست میں لے لیا گیا اور جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید ابو الاعلی مودودی کو اپنی جماعت کے دوسرے راہنماؤں کے ساتھ گرفتارتو پہلے روز ہی کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں ’’ قادیانی مسئلہ‘‘ کے نام سے ایک پمفلٹ لکھنے کے الزام میں ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم کردیا گیا۔ اس مقدمے کی سماعت سنٹرل جیل لاہور کی عمارت کے اندر ہی فوجی عدالت جیل کے ایک احاطے میں کیاکرتی تھی۔ میں یہ منظر کبھی نہیں بھول سکتا کہ مولانا مودودیؒ اپنے معمول کے لباس شیروانی ٗ ٹوپی اور پاجامہ میں ملبوس جب جیل کے مین گیٹ سے نکل کر فوجی عدالت میں پیش ہونے کے لیے مخصوص احاطے میں جاتے تو جماعت کے کارکن دو رویہ کھڑے ہو کر کسی بھی قسم کی نعرہ بازی کے بغیر صبر و تحمل کا بھر پور مظاہرہ کرتے ۔ بالآخر جو ہونا تھا وہی ہوا۔ مولانا کے لیے سزائے موت کا حکم سنادیا گیا۔ میں اس وقت کمرہ عدالت میں موجود تھا۔ فیصلہ سننے کے بعد مولانا کی زیر لب مسکراہٹ دیدنی تھی۔ اس مسکراہٹ کو خندہ استہزاء ہی کہا جا سکتا ہے۔ جہاں تک مولانا کے پھانسی کی کوٹھڑی میں منتقل ہونے اور اس کو ٹھڑی کا مخصوص لباس پہننے کا تعلق ہے۔ اس پر مولانا کے رفقاء خاص ٗبالخصوص میاں طفیل محمد اور مولانا امین احسن اصلاحی کی تحریریں معروف قومی اخبارات کے صفحات میں شائع ہو چکی ہیں۔ تاہم مولانا نے اپنے بڑے بیٹے عمر فاروق کو جن الفاظ سے خطاب کیا انہیں میںیہاں نقل کرنا ضروری بھی سمجھتا ہوں اور ایک اہم فریضہ بھی ’’اگر اللہ تعالیٰ کو میری زندگی مطلوب ہے تو یہ لوگ الٹے بھی لٹک جائیں مجھے نہیں لٹکا سکتے‘‘ سو فیصد صحیح الفاظ تو اس وقت سامنے نہیں تاہم مفہوم ان کا یہی تھا۔ حکومت کی طرف سے معافی کی درخواست کا تقاضا کیاجارہا تھا جس پر مولانا کا ردِ عمل نفرت اور بیزاری پر مبنی تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ مولانا کی سزائے موت کے فیصلے پر صرف پاکستان ہی میں نہیں ٗ پورے عالمِ اسلام میں بھر پور احتجاج کیا گیا جس کے بعد حکومت مولانا مودودی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئی۔

جواب دیں