۔ پریس آر ڈیننس کے تحت گرفتار

اس مارشل لاء کی عدالتی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کا ایک عدالتی بنچ بھی قائم کیا گیا لیکن اس بنچ کی کارروائی کا ذکر کرنے سے پہلے اس امرِ واقعہ کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی دوسری اہم ترین دینی شخصیات کی گرفتاری کے علاوہ جماعت اسلامی کو خلافِ قانون قرار دینے کے بعد اس جماعت کے تمام سرکردہ راہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ مارچ ۱۹۵۳ ء کا واقعہ ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے ان گرفتاریوں کے خلاف ایک احتجاجی بیان پر سرکردہ سیاسی اور دینی شخصیات کے دستخط لینے کی مہم شروع کی۔ جس کا غذ پر دستخط حاصل کیے جارہے تھے اسے مقامی پولیس نے خلافِ قانون قرار دے کرجماعت کے لاہور آفس پر چھاپا مارا ٗ جس کے کچھ ہی دنوں بعد مجھے ۱۸ ۔ پریس آر ڈیننس کے تحت گرفتارکر لیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ میری گرفتاری ۲۲ مئی ۱۹۵۳ ء کو میری قیام گاہ واقع قلعہ لچھمن سنگھ سے عمل میں آئی۔ تھانہ ٹبی کے انچارج شیخ صفدر نے غیر ضروری حد تک دہشت انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس پارٹی کے ذریعے میرے گھر کا محاصرہ کر لیا اور مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے گیا جہاں مجھے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ حالانکہ میرا قصور جو بھی تھا اس کی ضمانت گھر پر ہی لی جا سکتی تھی لیکن تھانے دار نے مجھے حوالات میں نظر بند کرنا ضروری سمجھا۔ جہاں سے اُسی شام مجھے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تاہم حوالات کی چند گھنٹوں کی زندگی جہاں بہت سی تلخ یادگاریں چھوڑنے کا ذریعہ بنی ٗ اس کے ساتھ ہی اس کی افادیت کا یہ پہلو بھی بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کمرے میں دو حوالاتی پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں پوچھا ’’ مولوی جی تسیں کدھر؟‘‘ خیر میں نے اپنی کہانی تو سنانا ہی تھی جو سنادی گئی۔ لیکن جب ان سے حوالات میں آنے کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بلا جھجک بیان کیا کہ ہمیں تو ویسے ہی پکڑنے کا بہانہ بنالیا گیا۔ ہمارے چھوٹے بڑے لڑائی جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں۔ آج ایسے ہی ایک جھگڑے کو بنیاد بنا کر حوالات میں بند کردیا گیا اور اب کل ہمیں عدالت میں پیش کیاجائے گا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے اپنی زندگی میں مصالحانہ کردار اداکرنے کی پہلی کوشش کے نتیجے میں ان دونوں حوالاتیوں کو صلح صفائی کے ساتھ عدالت میں یہ بیان دینے پر آمادہ کر لیا کہ ہمارے درمیان معمولی سا جھگڑا ہوا تھا جو ختم ہو چکاہے۔ چنانچہ اس کوشش کے نتیجے میں اگلے دن یہ دونوں حوالاتی بھی آزاد ہو گئے ۔

جواب دیں